رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: طالبان کا سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملہ، 14 اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک حملے میں حکومتی فورسز کے 14 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے، جب کہ افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، افغانستان کے صوبہ ہرات میں بدھ کو ایک سیکورٹی چیک پوسٹ پر طالبان نے حملہ کیا جس میں 14 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس کے ترجمان عبدالاحد ولی زادہ کے مطابق، صوبہ ہرات کے ضلع روبتِ سنگی میں طالبان کے شدّت پسندوں نے ایک سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جسے پسپا کر دیا گیا ہے۔

ولی زادہ کے بقول، چیک پوسٹ پر حملے اور طالبان سے جھڑپوں کے دوران 14 سیکورٹی اہلکار ہلاک جب کہ شہریوں سمیت کم از کم 9 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم، سیکورٹی اہلکاروں نے حملہ آوروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

دوسری جانب طالبان کا اس حملے سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نواں دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہے۔ (فائل فوٹو)
طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نواں دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہے۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ ان دنوں طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نواں دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ فریقین مذاکرات کے اس دور میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حتمی مسودے کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب طالبان رہنما امن معاہدے کے بعد بھی افغان فورسز اور حکام کے خلاف حملے جاری رکھنے کا پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں۔

طالبان کے دو اہم رہنماؤں نے پیر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ امن معاہدے کے باوجود افغان حکومت اور افغان فورسز کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔

طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امریکہ سے امن معاہدہ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ افغان حکومت سے جنگ بندی کر لیں، بلکہ وہ اس معاہدے کے بعد بھی افغان حکومت کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG