رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں فوج کی فائرنگ میں مشتبہ عسکریت پسند اور تین شہری ہلاک


عہدیداروں کے مطابق نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں حفاظتی دستوں کے ایک گشتی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کی طرف سے کئے گئے حملے کے جواب میں کی گئی فائرنگ میں ایک عسکریت پسند اور تین شہری ہلاک ہوگئے۔

یہ واقعہ اتوار کی رات شوپیان کے ایک گاؤں پہنو میں پیش آیا۔ پولیس نے مارے گئے مشتبہ عسکریت پسند کی شناخت شاہد احمد ڈار کے طور پر کی اور کہا کہ وہ شوپیان ہی کے ایک اور گاؤں جام نگری کا رہنے والا تھا۔

سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے بتایا کہ ایک کار میں سوار عسکریت پسندوں نے پہنو میں ایک جوائنٹ موبائیل چک پوسٹ پر اچانک حملہ کیا جس کے جواب میں کی گئی فائرنگ میں ترجمان کے بقول ایک دہشت گرد مارا گیا اور اس کے استعمال میں رہنے والا ایک ہتھیار ضبط کیا گیا۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کار میں تین اور افراد کی لاشیں ملیں ۔ مارے گئے ان افراد کے بارے میں ترجمان نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک عسکری تنظیم کے گراونڈ ورکر تھے اور حملہ آوروں کے ساتھ ہی کار میں سوار تھے۔

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ آیا عسکریت پسندوں کے حملے میں حفاظتی دستوں کا بھی کوئی نقصان ہوا یا نہیں۔

مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ شوپیان سے تعلق رکھنے والے ان تین شہریوں کو فوج نےعسکریت پسندوں کے مبینہ حملے کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تینوں ایک کار میں سفر کررہے تھے جو حملے کے وقت علاقے سے گزررہی تھی۔ انہوں نے مارے گئے ان شہریوں کی شناخت سہیل خلیل وگے، محمد شاہد خان اور شاہنواز احمد وگے کے طور پر کی ہے۔

اس واقعے کے بعد شوپیان کے کئی علاقوں میں لوگوں نے گھروں سے باہر آکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ چند مقامات پر مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپیں ہونے کی اطلاعات ملی ہیں ۔ ایک پولیس افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو فون پر بتایا کہ علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کمک روانہ کردی گئی ہے۔

ادھر استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد ْمشترکہ مزاحمتی قیادت ْ نے شہری ہلاکتوں کے خلاف وادئ کشمیر میں پیر کو ایک عام ہڑتال کرنے کی اپیل جاری کردی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پیر کو شوپیان اور جنوبی کشمیر کے بعض دوسرے حصوں کے ساتھ ساتھ شورش زدہ ریاست کے گرمائی صدر مقام سرینگر کے حساس علاقوں میں حفظِ ما تقدم کے طور پر حفاظتی پابندیاں عائید کی جائیں گی جبکہ آزادی پسند قائدین اور سرکردہ کارکنوں کی نقل و حرکت محدود کی جائے گی۔

ادھر پیر کو عہدیداروں نے بتایا کہ حفاظتی دستوں نے جنوبی ضلع پلوامہ کے ہاتی وار اونتی پور علاقے میں ایک "سرجیکل آپریشن" کے دوران جیشِ محمد نامی عسکری تنظیم کے نئی دہلی کے زیرِانتظام کشمیر کے لئے 'آپریشنل کمانڈر' مفتی وکاس عرف ابو ارسلان کو ہلاک کر دیا ہے۔

عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والا عسکری کمانڈر جو ایک پاکستانی شہری تھا جموں کے سنجوان ملٹری اسٹیشن پر 10 فروری کو کیے گیے دہشت گرد حملے اور اسی طرح کی کئی دوسری کارروائیوں کا "منصوبہ ساز" تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG