رسائی کے لنکس

 انتخابی اصلاحات کے مجوزہ بل پر اختلافات


حزب مخالف اور حکومت کے اتحادی قانون سازوں کی طرف سے انتخابی اصلاحات کے مجوزہ بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کو موثر بنانے کے لیے دور رس ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔

تقریباً ڈھائی سال کی مشاورت اور عرق ریزی کے بعد حکومت نے انتخابی اصلاحات کے مجوزہ بل 2017ء کو بحث کے لیے گزشتہ ہفتے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی طارق اللہ نے بل پر بحث کرتے ہوئے انتخاب کو متناسب نمائندگی کے تحت کروانے کی تجویز دی۔ انہوں نے انتخابی حلقے کے انتخابی عمل کے جائز ہونے کے لیے 10 فیصد خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرط کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

تاہم طارق اللہ نے انتخاب میں حصہ لینے والے فریقین کی باہمی رضا مندی سے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے اقدام کی مخالفت بھی کی۔

پاکستان کے خصوصاً شمال مغربی حصوں سے ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ وہاں مختلف انتخابی امیدوار باہمی رضامندی سے خواتین کو یہ کہہ کر ووٹ ڈالنے سے روک دیتے ہیں کہ ان کے بقول روایات کے برخلاف ہے۔

اس پر ایک عرصےسے بحث ہوتی رہی اور مجوزہ مسودہ قانون میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ اگر کسی حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح میں خواتین کی شرح دس فیصد سے کم ہوئی تو وہ نتائج کالعدم قرار دے دیے جائیں گے۔

سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن سرور باری نے وائس امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین ملک کے تمام شہریوں بشمول خواتین کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے اور ان کے بقول انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے لیے موثر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ " 10 فیصد کوئی اتنی بڑی شرط نہیں ہے سول سوسائٹی اور دیگر یہ چاہتے ہیں کہ اگر یہ مل کر طے کیا جاتا ہے کہ خواتین ووٹ نا ڈالیں تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ کیونکہ تمام مرد و خواتین کو آئین کے رو سے ووٹ ڈالنے کا حق ہے تو اس کو یقینی بنانا ضروری ہے۔"

دوسری طرف حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے مجوزہ اصلاحاتی بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے، ووٹنگ کے عمل میں بائیو میٹرک نظام کو متعارف کروانے، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور نگرانی میں حکومت کو حزب مخالف کی تمام جماعتوں کی رضامندی کے ساتھ قائم کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کا یہ مجوزہ قانون تمام پارلیمانی و سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے طویل مشاورت اور تجاویز کے بعد مرتب کیا گیا اور اگر اب بھی کوئی ایسی قابل عمل تجویز سامنے آئی تو اس پر بھی غور کیا جائے گا لیکن ان کے بقول آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان اصلاحات کو بروقت منظور کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG