رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان تجارتی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنے کے عزم کا خیر مقدم


فائل فوٹو

پاک افغان تجارت سے منسلک کاروباری افراد نے پاکستان اور افغانستان کی اعلیٰ قیادت کے باہمی سیاسی معاملات کو اقتصادی اورتجارتی تعلقات سے الگ رکھنے کے عزم کو خوش آئیند قرار دیا ہے۔

اس عزم کا اظہار گزشتہ ہفتے کابل میں پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ کابل کے دوران کیا گیا جب انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ افغان عہدیداروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عباسی کے دورہ کابل کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں پاک افغان قیادت نے باہمی تجارتی معاملات کو مل کر حل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کا امن و استحکام اور خوشحالی ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

اس کے ساتھ وزیر اعظم عباسی اور صدر اشرف غنی نے پاکستان و افغانستان کے باہمی اقتصادی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ زبیر موتی والا نےاس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کی کاروباری برداری کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل اپنے تجارتی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھیں کیونکہ ان کے بقول حالیہ سالوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تناؤ کی وجہ سے دو طرفہ تجارتی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑا۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کو مستقل بنیادوں پر ایک طریقہ کار وضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ہر طرح کے حالات میں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔

" اگر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے میں اس کا بہت زیادہ خیر مقدم کرتا ہوں۔ پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے منشور میں جو سب سے پہلی بات لکھی ہوئی ہے کہ وہ یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمی سیاسی اور سیکورٹی معاملات کو تجارتی تعلقات سے الگ رکھا جائے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ " اس کے لیےجو بھی ضروری اقدامات درکار ہیں وہ کیے جانے چاہئیں لیکن جب ایک دفعہ ایک طریقہ کار وضح کر لیا جائے تو پھر بارڈر کو بند کرنا یا ایسے معاملات جن سے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہو، وہ نہیں ہونے چاہئیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ سالوں کے دوران اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں تناؤ و کشیدگی کی وجہ سے ناصرف سفارتی تعلقات متاثر ہوئے بلکہ اس صورت حال کی وجہ سے پاک افغان تجار ت کے حجم میں بہت زیادہ کمی ہوئی ۔

زبیر موتی والا نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان میں باہمی تجارتی حجم میں اضافے کے کئی امکانات کے باوجود باہمی کشیدگی اور دیگر معاملات کی وجہ سے حالیہ سالوں کے دوران پاک افغان باہمی تجارت کا سالانہ حجم دو ارب 70 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر تقریباًایک ارب 60 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے سے ناصرف اعتماد سازی میں مدد ملے گی بلکہ اقتصادی روابط میں بھی بہتر متوقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG