رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی پارلیمان: یمن کی صورت حال پر غیر جانبدار رہنے پر اتفاق


پارلیمان میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اگر سعودی عرب کی سرحدی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔

پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے یمن کے تنازع میں غیر جانبدار رہ کر اس تنازع کے سفارتی حل کے لیے متحرک کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی طرف سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری فضائی کارروائیوں کے بعد صورت حال اور پاکستان کے جنگ میں کردار کے بارے میں پاکستانی پارلیمان کا پانچ روز تک جاری رہنے والا اجلاس جمعہ کو ختم ہوا۔

پارلیمان نے متفقہ طور پر ایک 12 نکاتی قرارداد منظور کی جس میں ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اگر سعودی عرب کی سرحدی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قرار داد کا متن پڑھا جس میں یمن کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ لڑائی فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں ہے لیکن یہ فرقہ واریت کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس کے پورے خطے بشمول پاکستان پر اثرات پڑیں گے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور مسلمان ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے کردار کے لیے اقدامات کا آغاز کرے گا۔

یمن کے تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ لڑائی بند کر کے اپنے اختلافات پرامن طریقے سے حل کریں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یمن میں امن کے قیام اور استحکام کے لیے پاکستان علاقائی اور عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستانی پارلیمان کی طرف سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ یمن کا تنازع پورے خطے کو افراتفری کی جانب دھکیل سکتا ہے اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے مسلمان ممالک اور عالمی برداری سے کردار ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG