رسائی کے لنکس

نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن کا ننکانہ میں قتل


جماعت احمدیہ کے مقامی راہنما ایڈوکیٹ ملک سلیم لطیف اپنے بیٹے کے ہمراہ جمعرات کو موٹر سائیکل پر دفتر جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے اُن پر فائرنگ کر دی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب میں جماعت احمدیہ کے ایک مقامی راہنما اور نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن کو قتل کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق جماعت احمدیہ کے مقامی راہنما ایڈوکیٹ ملک سلیم لطیف اپنے بیٹے کے ہمراہ جمعرات کو موٹر سائیکل پر دفتر جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے اُن پر فائرنگ کر دی۔

ایڈوکیٹ سلیم لطیف موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جب کہ اُن کا بیٹا زخمی ہو گیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا تعلق بھی احمدیہ فرقے سے تھا اور انھوں نے 1979ء میں طبیعیات کے شعبے میں نوبیل انعام حاصل کیا تھا۔

ایک روز قبل یعنی بدھ ہی کو جماعت احمدیہ پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی تھی، جس میں کہا کہ 2016ء میں اُن کی جماعت کے چھ افراد کو قتل کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف پاکستان کے مقامی اخبارات میں منافرت پر مبنی 1700 سے زائد خبریں اور 313 مضامین شائع کیے گئے۔

سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان حالات میں احمدیہ برادری کے لیے ایک پرامن ماحول میں اپنے عقائد پر عمل درآمد کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ پر ردعمل جاننے کے لیے وائس آف امریکہ نے جب پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین اور حکمران جماعت کے رکن سینیٹر جاوید عباسی سے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ ملک میں آباد تمام عقائد و مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں انتہا پسند عناصر کسی خاص مذہب یا عقائد رکھنے والوں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرہ ہیں، جن کے خاتمے کے لیے اُن کے بقول حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG