رسائی کے لنکس

طیارہ حادثہ: 'تحقیقات مکمل ہونے تک رائے زنی سے گریز کیا جائے'


پی آئی اے کا طیارہ جمعے کو کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ایئر بس کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں طیارے کو پیش آئے حادثے پر بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک کسی قسم کی رائے زنی سے گریز کرنا چاہیے۔

جمعے کو کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 8303 کے حادثے کے بعد تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے فرانسیسی ماہرین کی ٹیم بھی منگل کی صبح پاکستان پہنچی ہے۔ ایئر بس بنانے والی کمپنی کے ماہرین کی 11 رکنی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچی۔

فرانسیسی ماہرین کی ٹیم نے طیارہ حادثے کی جگہ جناح گارڈن کا دورہ کیا اور مختلف زاویوں سے تصاویر بھی لیں۔

دریں اثنا، اختتام ہفتہ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، ایئر بس کے ترجمان اسٹفان شفرے نے بتایا ہے کہ تحقیقات کے لیے پاکستان پہنچنے والی ٹیم ''سب سے پہلے چھان بین کا اپنا کام مکمل کرے گی۔ اس لیے بین الاقوامی شہری ہوابازی کی تنظیم کے ضابطوں کے عین مطابق، جب تک تحقیقات جاری ہے ہم کچھ کہنا نہیں چاہیں گے۔''

بقول ترجمان، ''جب تحقیقات، تصدیق شدہ نتائج اور وضع کی گئی سفارشات مکمل ہوجائیں گی، ٹیم کی سربراہی کرنے والے رپورٹ شائع کریں گے۔''

اسٹفان شفرے نے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار سارہ زمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تحقیقات کاروں کو کام کرنے کے لیے درکار وقت دیں۔

ان سے پوچھا گیا کیا ایئر بس کا ادارہ پی آئی اے کے طیاروں کی معمول کی دیکھ بھال کا کام سرانجام دیتا ہے یا ادارے سے اس سے متعلق کوئی درخواست کی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ''فی الوقت، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے''۔ ترجمان سے یہ بھی پوچھا گیا آیا ایئر بس اپنے طور پر اس حادثے کی تحقیقات کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

جب ان سے یہ معلوم کیا گیا آیا حکومت پاکستان نے ایئر بس سے تحقیقات کے لیے مدد مانگی ہے، تو ترجمان نے اثبات میں جواب دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ادارہ اپنے طیاروں کے تکنیکی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عام حالات میں اپنے ماہر اور عملہ متعلقہ ملکوں کو روانہ کرتا رہتا ہے، ترجمان نے جواب ''ہاں'' میں دیا۔

ماہرین کی ٹیم اپنے ساتھ جہاز کا بلیک باکس بھی فرانس لے کر جائے گی کیوں کہ پاکستان کے پاس بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔

فرانس کے شہر تولوز میں قائم ایئر بیس کی لیبارٹری میں بلیک باکس ڈی کوڈ کرنے کے بعد مکمل ڈیٹا اور تمام تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ جو پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کی جائیں گی۔

خیال رہے کہ لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رن وے سے ملحقہ آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے میں 97 افراد ہلاک جب کہ دو مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔

حادثے کی تحقیقات میں ایئر سیفٹی انوسٹی گیشن کے مختلف قواعد کے مطابق تحقیقات کا عمل جاری ہے جس میں حادثے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔

تحقیقات کے دوران اب تک کیا ہوا اور کیا تفصیلات سامنے آئیں ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل پر تحفظات

طیارہ حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے ایئر کموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے جو حادثے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔

لیکن ناقدین ٹیم میں پاکستان ایئر فورس کے تمام افسران کو شامل کرنے پر سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔

پاکستان میں پائلٹس کی تنظیم پالپا نے بھی ٹیم کی تشکیل پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے تحقیقات میں پالپا کا نمائندہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پالپا کا کہنا ہے کہ تیکنیکی مشاورت کے لیے کمرشل ایئر لائن پائلٹ کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔ کیوں کہ جب تک یہی جہاز اڑانے والا پائلٹ اس ٹیم میں شامل نہیں ہوگا اس وقت تک جہاز کے اندر پیش آنے والے مختلف واقعات، ڈیٹا اور پائلٹ ردعمل کو مکمل طور نہیں جانچا جا سکتا۔

پالپا کے ترجمان کیپٹن طارق چوہدری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں اے 320 کا کوئی ماہر سابق یا موجودہ پائلٹ نہیں ہے۔ ایسے میں ایئر فورس کے جنگی جہاز اڑانے والے پائلٹس کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں، ضروری ہے کہ اس میں کمرشل اے 320 کے پائلٹ کو بھی شامل کیا جائے۔

رن وے سے ملنے والے شواہد

حادثے کے بعد پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں رن وے کی تصاویر دکھائی گئیں جن میں رن وے پر مبینہ طور پر جہاز کے انجنز کے نشانات دکھائے گئے۔

‏ایئرکرافٹ ‏ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن بورڈ نے رن وے کا جائزہ لیا تو اس دوران معلوم ہوا کہ ایل 25 رن وے پرطیارے کے انجن کی رگڑ کے نشانات موجود ہیں۔

ایوی ایشن حکام کے مطابق چار مختلف مقامات پر رن وے کا کچھ حصہ متاثر بھی ہوا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے رن وے پر لگے کیمرے کی مدد سے طیارے کی ‏لینڈنگ کے مناظر بھی دیکھے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے دونوں کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے ‏کر دی ہے۔

بعض ایوی ایشن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فوٹیجز میں دیکھا گیا ہے کہ لینڈنگ کے وقت ‏ جہاز کے لینڈنگ گیئر ڈاؤن نہیں تھے۔ یہ لینڈنگ گیئر ڈاؤن نہ ہونا تیکنیکی خرابی تھی یا انسانی غلطی اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے دوران طیارے کے ‏پہلے بائیں انجن کو رن وے 4500 فٹ کے مقام پررگڑ لگی اس کے بعد ‏دائیں انجن کو 5500 فٹ کے مقام پر رگڑ لگی جس کے بعد دونوں انجنز ایک ساتھ زمین پر لگے اور اسی دوران طیارہ اوپر کی ‏جانب بلند ہوا۔

ایوی ایشن حکام کے مطابق رن وے پر جہاں جہاں رگڑ لگی ان کی پیمائش کر لی گئی ہے۔ اس بات کا بھی تعین کیا جا رہا ہے کہ رن پر انجنز لگنے سے انہیں کتنا نقصان پہنچا۔

بھوجا ایئر لائنز طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق افسر سردار الیاس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے کاک پٹ وائس ریکارڈر کا مکمل جائزہ ضروری ہے۔ اس سے قبل کسی بھی قیاس آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔

سردار الیاس کا کہنا تھا کہ لاہور میں جہاز کے سفر شروع کرنے سے لے کر کراچی پہنچنے کے دوران ساری گفتگو کا جائزہ لینا ہو گا کہ کس مرحلے پر کیا ہوا؟

اُنہوں نے کہا کہ اگر طیارے کے لینڈنگ گیئرز کے ساتھ کوئی مسئلہ تھا تو ایئر ٹریفک کنٹرول کو اس بارے میں پائلٹ کو بتانا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ اگر رن وے پر رگڑ لگنے سے انجن کو نقصان ہوا تو بھی پائلٹ کو آگاہ کرنا ضروری تھا۔

سردار الیاس کے بقول تمام کو ایک تسلسل کے ساتھ جانچ کر ہی حادثے کے اصل محرکات تک پہنچا جا سکتا ہے۔

پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو

اس حادثے کے کچھ ہی دیر بعد ملک بھر میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر آڈیو ٹیپس گردش کرنے لگیں جن میں جہاز کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سنائی جا رہی تھی۔

مذکورہ گفتگو کے مطابق پائلٹ نے حادثے سے 13 منٹ قبل رن وے کو ٹچ کیا تھا جس کے بعد پائلٹ نے 'گو آراؤنڈ' یعنی ایک اور چکر لگانے کا فیصلہ کیا۔

گو آراؤنڈ کو ایوی ایشن زبان میں ایسی صورتِ حال کو کہا جاتا ہے جس میں پائلٹ کسی بھی معمولی تیکنیکی مسئلے یا دشواری کے پیشِ نظر لینڈنگ کا ارادہ ترک کر کے ایک اور چکر لگا کر دوبارہ لینڈنگ کرتا ہے۔

ایوی ایشن ماہرین اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کر رہے ہیں کہ کنٹرول ٹاور اور کاک پٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کہیں بھی لینڈنگ گیئرز کا تذکرہ نہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس گفتگو سے پہلے لینڈنگ گیئرز سے متعلق گفتگو ہوئی ہو لہذٰا بلیک باکس کھلنے کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔

حادثے سے کچھ دیر قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی طرف سے پائلٹ کو بتایا گیا کہ دونوں رن وے خالی ہیں۔ لیکن پائلٹ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ دونوں انجنز خراب ہیں۔

لیکن اس کے بعد پائلٹ نے مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے کی کال دے دی اور طیارہ آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا۔

سردار الیاس کے بقول فرسٹ آفیسر کا رویہ یس باس والا لگ رہا ہے، کسی بھی مرحلے پر اس کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ اس کا حادثے کے وقت کیا رول تھا، یہ سب بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس کا بھی تعین کرنا ہو گا کہ اگر پائلٹ کوئی غلطی کر رہا تھا تو فرسٹ آفیسر نے پائلٹ کو آگاہ کیا یا نہیں یہ سب کاک پٹ وائس ریکارڈر سے معلوم ہو گا۔

سردار الیاس کے بقول جہاز کا ملبہ بھی تحقیقات بھی معاون ثابت ہو گا اس کا مکمل نقشہ بنے گا۔ انجن کی پوزیشن، جہاز کے مختلف آلات کی پوزیشن یہ سب کڑیاں ملا کر ہی تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلی ناکام لینڈنگ کی کوشش کے بعد جہاز کا فیول ضائع کیا گیا۔ اُن کے بقول کمرشل جہازوں کے لیے ایک حد تک فیول ضائع کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ جنگی جہازوں میں زیادہ فیول ضائع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ البتہ اس کیس میں کیا ہوا یہ کہنا قبل از وقت ہے۔

جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری

حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے جائے حادثہ سے جہاز کے مختلف آلات اکٹھے کر لیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تحقیقات کے دوران جہاز کا ہر پرزہ بے شک جس بھی حال میں ہو وہ تحقیقات میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان میں تباہ حال انجنز کے پروں تک کی پوزیشن بھی جہاز کی تباہی کی وجوہات بتا سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ کاک پٹ کے مختلف آلات اور مختلف نابز کی پوزیشن بھی تحقیقات میں مدد دے سکتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف آلات، پرزوں اور گرنے کے مقامات کی تصاویر اور فوٹیجز حاصل کر لی ہیں۔

معلومات کون لیک کر رہا ہے؟

حادثے کے بعد تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ لیکن ملک بھر میں حادثے کے بعد آڈیو ریکارڈنگز اور مختلف دستاویزات گردش کر رہی ہیں۔

ان آڈیو ٹیپس یا دستاویزات کی پی آئی اے یا سول ایوی ایشن کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

حادثے کے بعد لیک ہونے والی آڈیو اور فوٹیجز کے معاملے پر پی آئی اے انتظامیہ اور پائلٹس کی تنظیم پالپا کے درمیان کشیدگی بھی سامنے آئی ہے۔

خیال رہے کہ لازمی خدمات ایکٹ میں پی آئی اے کو شامل کرنے کے بعد پائلٹس کی تنظیم پالپا کو تحفظات بھی رہے ہیں۔

پائلٹ کو ذمہ دار قرار دینے کی خبروں پر طیارے کے پائلٹ سجاد گل کے والد گل محمد بھٹی بھی نالاں ہیں۔ انہوں نے پی آئی اے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے بھی اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور ایک پائلٹ جس نے 17ہزار گھنٹوں کی فلائٹس کیں اسے حادثے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے دستاویزات اور آڈیوز لیک کی جا رہی ہیں۔

پالپا کے ترجمان کیپٹن طارق چوہدری کا کہنا ہے کہ اس وقت جو ہو رہا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ حادثے کے دو سے تین گھنٹوں کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولر کی پائلٹ سے گفتگو کا لیک ہونا، جہاز کے زیادہ بلندی پر ہونے کی قیاس آرائیاں یہ سب پائلٹ کو قصور وار قرار دینے کی منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG