رسائی کے لنکس

logo-print

الرجی کا کوئی مستقل علاج نہیں


وبائی بیماریوں اور الرجی کی روک تھام سے متعلق امریکہ کی قومی لیبارٹری کی اس تصویر میں الرجی کو رنگوں کے ساتھ لاکھوں گنا بڑا کر کے دکھایا گیا ہے۔ فائل فوٹو

بہار کی آمد کے ساتھ جہاں ہر طرف پھول خوشبو بکھیرتے ہیں وہیں اس وقت مہکتی فضا میں سانس لینا سوہان روح بن جاتا ہے جب آپ پولن الرجی کے آسان ہدف ہوں ، اور بہار ہی کیوں ہر موسم اپنی دیگر سوغاتوں کے ساتھ ساتھ الرجی کے شکار افراد کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث ہی بنتا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی سے منسلک پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر فاروق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الرجی کی چند مخصوص علامات ہوتی ہیں لیکن اکثر مریض، موسمی نزلہ زکام اور الرجی کے فرق کو نہیں سمجھتے اور گھر پر الرجی کو فلو سمجھ کر علاج شروع کر دیتے ہیں جو بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

الرجی اور نزلے میں فرق

دونو ں میں فرق واضع کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ الرجی میں ناک اور آنکھوں سے صاف پانی آتا ہے، سوزش محسوس ہوتی ہے ۔ اکثر ناک بند ہو جاتا ہے، جبکہ نزلے میں ناک سے نسبتاً گاڑھی رطوبت خارج ہوتی ہے اور بخار بھی محسوس ہوتا ہے لیکن الرجی میں بخار نہیں ہوتا۔

الرجی کی اقسام

اسلام آباد کے قومی ادارہ صحت سے منسلک ڈاکٹر ہارون اقبال کہتے ہیں کہ الرجی کی ایک قسم سانس کے ذریعے شروع ہوتی ہے تو دوسری کا تعلق جلد سے ہے، جو ان چیزوں کو چھونے یا جسم پر پہننے سے ہوتی ہے جن سے آپ الرجک ہوتے ہیں۔

اس الرجی کا آغاز جسم پر خارش سے ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ جلد کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو جلد چمڑے کی طرح سخت ہو جاتی ہے اور الرجی، ایگزیما کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

پاکستان میں الرجی کی اقسام

ڈاکٹر ہارون اقبال کہنا تھا کہ پاکستان میں موسموں کے اعتبار سے الرجی کی اقسام بھی مختلف ہوتی ہیں، اسلام آباد میں جنگلی شہتوت پولن الرجی کا سبب بنتے ہیں اور پنجاب کے زرعی علاقوں میں فصلوں پر کیے جانے والے اسپرے اور جانور الرجی کا باعث ہیں ۔

ڈاکٹر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ سندھ میں سمندر کے آس پاس کے علاقوں میں نمی کی وجہ سے ہونے والی الرجیز عام ہیں جبکہ اندرون سندھ خشک موسم کی وجہ سے اپنی نوعیت کی الرجیز موجود ہوتی ہیں اور کپاس کے موسم میں کاٹن الرجی عام ہوتی ہے۔

الرجی کا علاج

ماہرین کا کہنا تھا کہ الرجی کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے یعنی اگر آپ کو کسی بھی قسم کی الرجی ہے تو وہ تا حیات آپ کے ساتھ رہے گی اس کا ایک ہی حل ہے کہ اگر اس کی ویکسین موجود ہے تو آپ باقاعدگی سے اپنی ویکسینیشن کروائیں اور اگر کسی الرجی کی ویکسین موجود نہیں ہے تو آپ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ان کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ہارون اقبال نے کہا کہ فضائی الرجی کی صورت میں ماسک پہنیں۔ کسی ایسی چیز کا تیار کردہ لباس نہ پہنیں جس سے آپ کو الرجی ہے، اسی طرح ایسی چیزوں سے بنائے ہوئے زیورات اور دوسری چیزوں کا استعمال بھی ترک کر دیں جو آپ کو الرجی میں مبتلا کرتی ہیں۔ کھڑکیاں دروازے بند رکھیں اور گاڑی میں سفر کرتے ہوئے فضائی الرجی سے بچنے کے لیے شیشے بند کر دیں۔

ماسک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لوگ سرجیکل ماسک پہن لیتے ہیں جو پولن اور ڈسٹ الرجی میں بالکل مددگار نہیں ہوتے۔ ہر الرجی کے لیے مخصوص قسم کا ماسک ہوتا ہے جو مارکیٹ سے مل جاتا نےاور صرف وہی ماسک ہی الرجی سے بچاؤ میں فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG