رسائی کے لنکس

خارجہ اُمور پر غور کے لیے سفیروں کی کانفرنس کی تیاری


وزارتِ خارجہ کے مطابق اس کانفرنس میں ملک کی خارجہ پالیسی کے اہم معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

دنیا کے مختلف ممالک میں تعینات پاکستان کے سفیروں کی کانفرنس پانچ ستمبر سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے جس میں ملک کی خارجہ پالیسی بشمول امریکہ کی جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی پالیسی سے متعلق اُمور پر غور کیا جائے گا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس کانفرنس میں ملک کی خارجہ پالیسی کے اہم معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس تین روزہ کانفرنس میں منتخب ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا ہے جن میں امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری بھی شامل ہیں۔

سات ستمبر کو اس کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی خطاب کریں گے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی پر تجاویز کی تیاری کے لیے ایک انٹر ایجنسی سب کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

جب کہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستانی سفیروں کی کانفرنس اور انٹر ایجنسی سب کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ تجاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

سابق سفیر اور تجزیہ کار عزیز احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس طرح کی کانفرنس خارجہ پالیسی سے متعلق حکمتِ عملی کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

عزیر احمد خان کا کہنا تھا کہ جن ممالک سے سفیر اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئیں گے، وہ اُن ملکوں کی مختلف عالمی اُمور سے متعلق حکمتِ علمی کے بارے میں تازہ ترین اور مفصل معلومات فراہم کر سکیں گے۔

’’جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اُن کی رائے کے تجزیے کے بعد یہ مدد ملتی ہے کہ پاکستان کیا پالیسی بنائے۔۔۔ اس لحاظ سے ان (سفیروں) کی رائے بہت اہم ہوتی ہے۔‘‘

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ پارلیمان کے دونوں ایوان بھی امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد گزشتہ ماہ کے اواخر میں افغانستان اور خطے سے متعلق اپنی انتظامیہ کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔

امریکہ کے صدر نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ پاکستان اُن تنظیموں کو بھی اپنی سر زمین پر پناہ دیتا آیا ہے جو امریکی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔

پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ چکا ہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جا سکتی۔

گزشتہ ہفتے امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے ملاقات میں یہ وضاحت کی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار نہیں دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG