رسائی کے لنکس

قبائلی علاقہ جات میں سیکڑوں اسکول غیر فعال

  • شمیم شاہد

خیبر پختون خواہ سے ملحقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 812 سکول غیر فعال جبکہ 44 مکمل طور پر بند ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ غیر فعال سکول جنوبی وزیرستان میں ہیں جن کی تعداد 346 ہے جن میں 202 سکول لڑکوں اور 144 لڑکیوں کے ہیں اسی طرح دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ونے والے شمالی وزیرستان میں 146 اسکول غیر فعال ہیں جن میں لڑکوں کے 62 جبکہ لڑکیوں کے 84 اسکول ہیں۔ شمالی وزیرستان میں 13 اسکول مکمل طور پر بند کر دئیے گئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں بند اسکولوں کی تعداد 106 ہے جبکہ کرم ایجنسی میں 38 اسکول بند ہیں مہمند ایجنسی میں بند اسکولوں کی تعداد 52 ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے لئے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ زیادہ تر غیر فعال اسکولوں کے اساتذہ اور طالبعلم خیبر پختون خواہ کے مختلف شہروں اورقصبوں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ کئی ایک مقامات پر دہشت گردی کی وجہ سے سکول تباہ ہوئے یا انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

حکام نے دعوی کیا ہے کہ ابھی تک مختلف قبائلی علاقوں میں دہشت گردی سے تباہ ہونے والے ایک ہزار سے زائد اسکول ازسرنو تعمیر کر دئیے گئے ہیں جو مکمل طور پر فعال ہیں نو تعمیر شدہ اسکولوں کی اکثریت باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں ہے۔

غیر سرکاری اداروں میں متحرک خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے منظور آفریدی نے کہا کہ حکومتی دعوﺅں کے باوجود دہشت گردی سے تباہ ہونے والے اسکولوں کی ازسرنو تعمیر نہیں ہوئی ہے اسی طرح اکثر اسکولوں میں اساتذہ بالکل نہیں ہیں جس کی وجہ سے یہ سکول غیر فعال ہیں۔ قبائلی علاقوں کیلئے محکمہ تعلیم کے عہدیدار اسکول جاﺅ مہم کو کامیاب قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ سینکڑوں کی تعدادمیں بچوں کا اندراج ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG