رسائی کے لنکس

بیمار پاکستانی بچے کے علاج کے لیے بھارتی ویزا جاری


بھارتی ہائی کمیشن نے جمعہ کو دل کے عارضے میں مبتلا ڈھائی ماہ کے پاکستانی بچے کے علاج کے لیے میڈیکل ویزا جاری کر دیا ہے۔

اس سے قبل بھارت کی وزیر خارجہ شسما سوراج نے کہا تھا کہ دل کے عارضے میں مبتلا ڈھائی ماہ کے پاکستانی بچے کا علاج متاثر نہیں ہونا چاہیئے اور اُسے ’میڈیکل‘ ویزا جاری کیا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر ایک پیغام میں سشما سوراج نے کہا کہ ’’آپ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کریں۔ ہم میڈیکل ویزا دیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستانی شہری کین سد کا ڈھائی ماہ کا بیٹا روہن دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اُن کے بیٹے کا علاج پڑوسی ملک میں ممکن ہے۔

لیکن جب اُنھیں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے میڈیکل ویزا جاری نہیں کیا جا رہا تھا، تو اُنھوں نے سماجی رابطے کے ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر 24 مئی کو ایک پیغام میں لکھا تھا کہ میرے بیٹے کا علاج کیوں متاثر ہو رہا ہے۔ ’’اس کا کوئی جواب ہے سر سرتاج عزیز یا میڈیم سشما؟؟‘‘

سماجی میڈیا پر کین سد کے اس پیغام کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اس بچے کو میڈیکل ویزا دینے کا وعدہ کیا۔

بعد ازاں کین سد نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں اس عمل میں مدد پر لوگوں کو شکریہ ادا کیا ’’آپ کی دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔‘‘

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی بیمار پاکستانی کو یوں ویزا جاری کیا گیا ہو۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے گئے ایسے فیصلوں اجاگر کرنا چاہیئے۔

صحت کی نسبتاً سستی اور بہتر سہولتوں کے سبب پاکستانی شہری پڑوسی ملک علاج کے لیے جاتے ہیں، لیکن حال ہی میں پاکستان کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ علاج کی غرض سے بھارت جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو اب ویزے جاری کرنے کا عمل مشکل بنا دیا گیا اور ویزے جاری بھی نہیں کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کے مطابق بھارت نے علاج کے لیے ویزے کا اجرا مشروط کر دیا ہے، جس کے تحت ہر مریض کے ویزے کے لیے پاکستان کے مشیر خارجہ کو بھارت کی وزارت خارجہ کو خط لکھنا ہو گا۔

بھارتی ہائی کمیشن کے ذرائع کے مطابق ہر سال لگ بھگ 5000 ہزار پاکستانیوں کو علاج کے لیے بھارت کے ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اعضا کی پیوندی کاری اور دل کے امراض کے علاج کی بہتر سہولتیں میسر ہیں اور پاکستان سے عموماً بچے یا بڑی عمر کے مرد و خواتین علاج کے لیے پڑوسی ملک کا سفر کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG