رسائی کے لنکس

logo-print

نریندر مودی کا پاکستان کے خلاف مزید کارروائیوں کا اشارہ


بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے احمد آباد میں ایک انتخابی ریلی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے اندر مزید حملوں کا اشارہ دیا ہے۔ 4 مارچ 2019

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز یہ اشارہ دیا ہے کہ پچھلے ہفتے پاکستان میں کیا جانے والا فضائی حملہ اس دہشت گردی کے خلاف آخری کارروائی نہیں تھی جس کا مرکز ہمسایہ ملک ہے۔

احمد آباد میں ایک انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ دہشت گردوں کو نشانہ بنائیں گے چاہے وہ زمین کی تہوں میں ہی کیوں نہ چھپ جائیں۔

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے انتخابی ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایک کام مکمل ہو گیا ہے تو ان کی حکومت سوئے گی نہیں بلکہ ایک اور کارروائی کی تیاری کرے گی‘۔

انہوں نے یہ بات 26 فروری کو پاکستان کے اندر بقول ان کے دہشت گردی کے ایک کیمپ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے نام لیے بغیر کہی۔

ان کے اس تبصرے پر ہجوم کی جانب سے جوش و خروش کا اظہار کیا گیا۔

بھارتی وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بڑے اور تلخ فیصلے کرنے کا موقع ہو گا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مودی نے حزب اختلاف کے لیڈروں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فوج مخالف باتیں کر کے پاکستانی میڈیا کو اسے اچھالنے کا موقع نہ دیں، کیونکہ ہمارے اپوزیشن لیڈر جو کچھ کہتے ہیں وہ پاکستانی میڈیا کی شہ سرخیاں بن جاتی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا اصول یہ ہے کہ دہشت گردوں کو ان کے گھروں کے اندر مار دو۔

ان کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ کے دہشت گردی کیمپ پر بھارتی فضائیہ کا حملہ پلوامہ خودکش بم دھماکے کا جواب تھا۔ اسے پارلیمنٹ کے انتخابات سے نہیں جوڑنا چاہیے۔

نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کی جانب سے پکڑے جانے والے پائلٹ ابھی نندن ورتھامان کی رہائی کو خیر سگالی کا اظہار قرار دینے جانے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ابھی ایک پائلٹ پراجیکٹ پورا ہو گیا ہے۔ ابھی اصل کام کرنا ہے۔ پہلے تو پریکٹس تھی‘‘۔

پاکستانی حکمران بھارت کے فضائی حملے کو وہاں کے عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے ایک حربے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے یکم مارچ کو وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ جب تک بھارتی حکمرانوں پر الیکشن کا دباؤ برقرار ہے اس وقت تک بھارت کی جانب سے خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نریندر مودی کی آج کی تقریر میں بھی صلح کا پہلو دکھائی نہیں دیا۔ لیکن بھارت کی جانب سے کوئی بھی کارروائی اس کی حماقت ہو گی۔ اگر وہ کچھ کریں گے تو اس کا جواب دینا ہماری مجبوری ہو گی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور بھی میڈیا سے اپنی گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ فوج بھارت کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فوری جواب دینے کے لیے پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG