رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کا پاکستان کی طرف بہنے والا اپنا پانی بند کرنے کا فیصلہ


پاکستان کا سب سے بڑا تربیلا ڈیم، فائل فوٹو

بھارت نے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا پانی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں بہنے والے دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والا اپنے حصے کا پانی روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب یہ پانی کشمیر، جموں اور پنجاب کو فراہم کیا جائے گا۔

بھارت کی مرکزی حکومت کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور آبی وسائل نتن گادکاری نے اپنے ایک ٹیوٹ پیغام میں کہا ہے کہ ہماری حکومت نے پاکستان کی جانب بہنے والے اپنے حصے کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبررساں ادارے رائیٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیرنے کہا ہے کہ بھارت مشرقی دریاؤں کا رخ موڑ کر اس کا پانی جموں اور کشمیر اور پنجاب کے عوام کو فراہم کرے گا۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب،جہلم اور سندھ کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا جبکہ راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے حوالے کئے گئے تھے۔ دریاؤں پر کسی بند کی تعمیر کے لئے اس کے ڈیزائن پر باہمی مشاورت ضروری تھی۔ اس سلسلے میں متعدد اجلاسوں کے باوجود دونوں ممالک کے اختلافات بدستور قائم ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت اس کے حصے کا پانی روک رہا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حصے کا زیادہ تر پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG