رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں ایشیا پیسیفک کا دوسرا بڑا ملک


ایڈز میں مبتلا ایک 10 سالہ بچہ اپنی والدہ کے ساتھ۔ فائل فوٹو

صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں حال ہی میں 800 افراد کے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جن کی 80 فیصد تعداد 15 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے۔ ان بچوں میں سے بھی زیادہ تر کی عمریں پانچ سال سے کم ہیں۔

ان مریضوں میں سے اب 396 کو علاج کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 2017 میں پاکستان بھر میں ایچ آئی وی کے 20,000 سے زیادہ نئے مریضوں کی نشاندہی ہوئی تھی جس کے بعد بتایا گیا کہ پاکستان ایشیا پیسیفک علاقے میں دوسرا سب سے بڑا ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں ایچ آئی وی ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے۔

تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ وبا استعمال شدہ سرنجوں کو بار بار استعمال کرنے اور غیر محفوظ جنسی تعلق کے نتیجے میں تیزی سے پھیلتا ہے۔

اس وبا سے بچنے کے لیے حفاظتی طریقوں کو بہتر بنانے اور ایچ آئی وی میں مبتلا مریضوں کو معاشرے کے امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مرض میں مبتلا افراد کے خاندان ایچ آئی وی ایڈز کے متعلق کچھ زیادہ نہیں جانتے اور ان کی معلومات انتہائی ناکافی ہیں۔

بیشتر واقعات میں متاثرہ خاندانوں کو اس مرض کے متعلق اس وقت پتا چلا جب ان کا کوئی فرد اس میں مبتلا ہوا۔ کم تر معلومات کی وجہ سے افراتفری کی کیفیت پیدا ہوئی اور ایچ آئی وی میں مبتلا بچوں کے خاندانوں کو معاشرے میں شدید امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

ایچ آئی وی ایڈز سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر ایمون مرفی کا کہنا ہے کہ اس انفیکشن پر کنٹرول کرنے اور ایچ آئی وی میں مبتلا بچوں اور ان کے خاندانوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ان کا ادارہ مکمل تعاون فراہم کر رہا ہے۔

یو ایس ایڈز، یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے اس بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مربوط انداز میں مقامی انتظامیہ کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہیلتھ ورکرز اور مذہبی رہنماؤں کو باقاعدہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو بھی اس وبا کے متعلق ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG