رسائی کے لنکس

طالبان نے ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

ملالہ یوسف زئی
ملالہ یوسف زئی

طالبان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی پشتون ثقافت کے برعکس ناصرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے۔

کا لعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘

پاکستان کی وادی سوات میں منگل کو مشتبہ طالبان شدت پسندوں نے امن ایوارڈ یافتہ ایک چودہ سالہ کمسن لڑکی ،ملالہ یوسفزئی، کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔

یہ حملہ خطے کے انتظامی مرکز مینگورہ میں کیا گیا جب ملالہ ایک وین میں ساتھی طالبات کے ہمراہ واپس گھر جا رہی تھیں۔ فائرنگ سے دو دیگر لڑکیاں بھی زخمی ہوئیں۔

ملالہ کو فوری طور پر ایک مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی گردن میں لگی گولی نکالنے کے لیے ایک خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے پشاور کے سی ایم ایچ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ڈاکٹروں نے ملالہ اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب میں اس حملے کو انتہا پسندانہ سوچ کی عکاس قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

سوات: امن ایوارڈ یافتہ طالبہ پر طالبان کا حملہ

ملالہ یوسف زئی کو طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا جا رہا ہے
1/13 ملالہ یوسف زئی کو طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا جا رہا ہے
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی
2/13 امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی کمپیوٹر پر کام کر رہی ہیں
3/13 ملالہ یوسف زئی کمپیوٹر پر کام کر رہی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
خوشحال گرلز ہائی اسکول اور کالج
4/13 خوشحال گرلز ہائی اسکول اور کالج
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی اسکول جا رہی ہیں
5/13 ملالہ یوسف زئی اسکول جا رہی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی استاد کے سوال کا جواب دے رہی ہیں
6/13 ملالہ یوسف زئی استاد کے سوال کا جواب دے رہی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی کلاس کو پڑھا رہی ہیں
7/13 ملالہ یوسف زئی کلاس کو پڑھا رہی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی اپنی سہلیوں سے بات چیت کر رہی ہیں
8/13 ملالہ یوسف زئی اپنی سہلیوں سے بات چیت کر رہی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی کلاس میں بیٹھی ہیں
9/13 ملالہ یوسف زئی کلاس میں بیٹھی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی ایک طالبہ سے سوال پوچھ رہی ہیں
10/13 ملالہ یوسف زئی ایک طالبہ سے سوال پوچھ رہی ہیں
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی اسکول میں تفریح کے وقت
11/13 ملالہ یوسف زئی اسکول میں تفریح کے وقت
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
ملالہ یوسف زئی اپنے کام میں محو
12/13 ملالہ یوسف زئی اپنے کام میں محو
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
سوات کے بارے میں ملالہ یوسف زئی نے کمپیوٹر پر کچھ جملے ٹائپ کیے
13/13 سوات کے بارے میں ملالہ یوسف زئی نے کمپیوٹر پر کچھ جملے ٹائپ کیے
پولیس کے مطابق ملالہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں کہ ان کی ویگن پر، جس میں اور طالبات بھی سوارتھیں، مینگورہ میں فائرنگ کی گئی۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ کو ان کے نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
Previous slide
Next slide
چودہ سالہ ملالہ یوسف زئی اور اُس کے نجی خوشحال پبلک اسکول کی طالبات فیسوں سے متعلق ایک نئے فیصلے کے خلاف ایک احتجاج میں شرکت کے بعد واپس گھر جا رہی تھیں جب دو مسلح افراد نے ان کی گاڑی کا راستہ روک لیا۔

اسپتال میں زیر علاج ایک زخمی طالبہ نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے وین کے اندر بیٹھی طالبات سے دریافت کیا کہ ’’تم میں سے ملالہ کون ہے اور جب میں نے غیر ارادی طور پر گردن گما کر ملالہ کی طرف دیکھا تو اس نے ملالہ پر فوراً گولی چلا دی‘‘۔

ملالہ یوسفزئی نے سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن سے قبل علاقے کے حالات پربرطانوی نشریاتی ادارے کے لیے ’گل مکئی‘ کے قلمی نام سے ڈائری لکھ کر شہرت حاصل کی تھی۔

حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن یوارڈ دیا تھا جبکہ اُنھیں گزشتہ سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج نے 2009 میں ایک بھرپور فوجی آپریشن کر کے سوات اور ارگرد کے اضلاع سے طالبان شدت پسندوں کو مار بھگایا تھا۔ وادی میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد ملالہ یوسف زئی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُس وقت جس خدشے کا اظہار کیا تھا وہ منگل کو ان پر ہونے والے حملے نے درست ثابت کردیا۔

’’زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ طالبان کے اعلٰی کمانڈر ابھی زندہ ہیں اور وہ دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں۔ ابھی زیادہ خوف نہیں ہے لیکن کبھی کبھی ہم ڈر جاتے ہیں کہ کہیں ایسا نا ہو کہ طالبان پھر آ جائیں۔‘‘

ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ اگر لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کریں گی تو نہ ہی کوئی لیڈی ڈاکٹر ہوگی اور نہ استانی۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ ایک سیاست دان بنیں۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار خان بابک نے وائس امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اور معصوم بچیوں کو ایسی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنانا پختون معاشرے کی روایات کے بھی خلاف ہے۔
XS
SM
MD
LG