رسائی کے لنکس

logo-print

قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا


خلاصہ

پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی پندرہویں قومی اسمبلی اور بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھالیا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں سے نئی اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف 158 نشستوں کے ساتھ ایوان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) 82 نشستوں کے ساتھ دوسری جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 53 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت ہے۔

صوبۂ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں اور یہ دونوں جماعتیں تنہا ان دونوں صوبوں میں حکومت بنائیں گی۔

پنجاب میں آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف ایوان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے تاہم اسے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صورت میں مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کی مخلوط حکومت بننے کا امکان ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے بلوچستان سے نومنتخب رکن قاسم سوری کو قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قاسم سوری نے اپنی نامزدگی کا اعلان خود ہی پیر کو اسلام آباد میں بنی گالہ میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نامزد امیدوار اسد قیصر بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب 15 اگست کو ہوگا۔

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے بعد وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد عاطف نے نومنتخب ارکان سے بات چیت کی۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 16 اگست تک ملتوی

پینسٹھ ارکان پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کے 59 نومنتخب ارکان نے پیر کو اسمبلی رکنیت کا حلف اُٹھایا جس کے بعد اجلاس جمعرات تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسمبلی کے تین نومنتخب ارکان نے حلف نہیں لیا جن میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ نواب ثنا اللہ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے احمد علی کہزاد شامل ہیں۔

نواب ثنا اللہ پیر کو اجلاس میں نہیں آئے۔ سردار اختر مینگل قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی کی رُکنیت کا حلف اُٹھایا۔ احمد علی کوہزاد کی کامیابی کا نوٹیفکیشن ان کی مبینہ دُہری شہریت کے باعث روک دیا گیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے پی بی 35 پر اُمیدوار اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی کی ایک خودکش حملے میں ہلاکت کے باعث انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔

صوبائی اسمبلی کے ایک اور حلقے پی بی 41 واشک کے نتائج انتخابی عمل میں مداخلت کے باعث جاری نہیں کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے اسمبلی میں خواتین کی 11 مختص نشستوں میں سے ایک پر اُمیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے دو، دو ارکان ہیں اور ایچ ڈی پی کے ایک رکن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن دُہری شہریت کے باعث جاری نہیں کیا گیا۔

کمیشن کے مطابق یہ معاملہ وزارتِ داخلہ کے پاس زیرِ غور ہے جس کا فیصلہ ہونے تک خاتون رکنِ اسمبلی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جائے گا۔

نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد اسمبلی کا اجلاس 16 اگست تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ آئندہ اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس 15 اگست تک ملتوی

نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس 15 اگست تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی منگل کی صبح نو بجے سے سہ پہر تین بجے تک جمع کرائے جاسکیں گے۔

کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال بھی منگل کو ہی ہوگی۔ کاغذاتِ نامزدگی منظور ہونے والے امیدوارواں کی فہرستیں منگل کی شام تک آویزاں کی جائیں گی جب کہ اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب 15 اگست کو ہوگا۔

مزید لوڈ کریں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG