رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر کو نئی دہلی جانے سے روک دیا


نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے باہر بھارتی سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ فائل فوٹو

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہائی کمشنر کو اس وقت تک نئی دہلی نہیں بھیجے گا جب تک بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری رونما نہیں ہوتی اور بھارتی خفیہ ادارے پاکستانی سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم نہیں کردیتے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے ہراساں کیا جارہا ہے، ان کی گاڑیوں کے ساتھ موٹرسائیکل سوار اور گاڑیوں میں سوار نامعلوم افراد راستہ روک کر انہیں ہراساں کرتے ہیں اور ان کی تصاویر بنائی جاتی ہیں۔

پاکستان نے اپنے سفارتی عملے کو ہراساں کیے جانے کے پے درپے واقعات کے بعد ہائی کمشنر سہیل محمود کو محض مشاورت کے لیے نئی دہلی سے اسلام آباد بلایا تھا۔ تاہم اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر واپس بھارت نہیں جائیں گے۔

اس فیصلہ میں اعلیٰ ترین سطح پر مشاورت کی گئی ہے اور پاکستانی دفترخارجہ کا موقف ہےکہ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بھی آگاہی مہم چلائی جائے گی کہ بھارت لگاتار ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کررہا ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کا پاکستان میں طویل قیام بھارت پر دباؤڈالنے کی کوشش ہے۔

پاکستان بھارتی ہائی کمیشنر کو پہلے ہی دفترخارجہ طلب کرکے اس معاملہ پر اجتجاج کرچکا ہے لیکن تاحال اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور پاکستان کے مطابق اس کے سفارت کاروں کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG