رسائی کے لنکس

دہشت گردوں میں تفریق نہیں کرتے، امریکی رپورٹ پر پاکستان کا ردعمل


پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس رپورٹ کے بارے میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرعزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

پاکستان نے امریکی محکمۂ خارجہ کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق عالمی رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی گئی ہے۔

محکمۂ خارجہ کی رپورٹ برائے 2016 میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں مسلسل دوسرے سال بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن اب بھی امریکہ کے لیے خطرہ تصور کی جانے والی دہشت گرد تنظیموں بشمول حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج اور سکیورٹی فورسز نے تحریک طالبان پاکستان سمیت اُن دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے جو کہ پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔

سالانہ رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس رپورٹ کے بارے میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرعزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

نفیس ذکریا، وزارت خارجہ کے ترجمان
نفیس ذکریا، وزارت خارجہ کے ترجمان

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں جسے بہت سے ممالک بشمول امریکہ کی طرف سے سراہا بھی گیا ہے۔

’’پاکستان دہشت گردوں میں تفریق نہیں کرتا، ہم تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔۔۔۔ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب بہت سے شدت پسند افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان گزشتہ لگ بھگ 40 سال سے افراتفری کا شکار ہے۔ نفیس ذکریا کے بقول اس صورت حال میں دہشت گردوں کو افغانستان کے اُن علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملتا ہے جہاں کابل حکومت کی عمل داری نہیں ہے۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ امریکہ کے قانون سازوں سمیت بعض دیگر ممالک کے عہدیدار خود پاکستان کے اُن قبائلی علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں جہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 600 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ 2012 اور 2013 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہر سال لگ بھگ 3000 افراد مارے گئے تھے۔

رپورٹ میں پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ مدارس کو سرکاری دائرہ کار میں لانے کا کام بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستانی عہدیدار کہتے رہے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت شدت پسندوں اور اُن کی معاونت کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری ہے۔

گزشتہ اختتام ہفتہ ہی پاکستانی فوج نے ملک کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی دو افتادہ وادی راجگال میں دہشت گردوں کے خلاف ’خیبر فور‘ کے نام سے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

حکام کاکہنا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں شدت پسند تنظیم داعش کے بڑھتے ہوئے اثر کو پاکستان منتقل ہونے سے روکنے کے لیے پاک افغان سرحدی علاقوں میں کارروائی کر کے سرحد کی نگرانی کو موثر بنایا جا رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ ’داعش‘ کا ملک میں منظم وجود نہیں ہے لیکن دہشت گردی کے حالیہ کئی واقعات کی ذمہ داری ’داعش‘ یا اس سے جڑی تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG