رسائی کے لنکس

logo-print

سیکریٹری خارجہ کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورۂ کابل


پاکستان کے 28 رکنی وفد نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی قیادت میں افغان وفد سے بات چیت کی۔

پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اتوار کو وفد کے ہمراہ کابل کا دورہ کیا جہاں 'افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈریٹی' کے لائحہ عمل سے متعلق ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس ہوا ۔

پاکستان کے 28 رکنی وفد نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی قیادت میں افغان وفد سے بات چیت کی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستانی وفد میں شامل وزارت خارجہ، وزارت داخلہ ، فوج اور انٹیلی جنس سمیت دیگر اداروں کے عہدیدار شامل تھے جنہوں نے کابل کے متعلقہ اداروں کے عہدیداروں سے ادارتی سطح پر بات چیت کی۔

پاکستانی اور افغان وفود کی سطح پر ہونے والے اجلاس کے موقع پر افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے عہدیداروں کے درمیان اتوار کو ہونے والی بات چیت سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں اسلام آباد اور کابل نے ’’افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈیرٹی‘‘ کے فریم ورک کے تحت انسداد دہشت گردی، امن و مصالحت، پناہ گزینوں کی واپسی اور مشترکہ اقتصادی ترقی اور سرحد کی نگرانی سے متعلق معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضح کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے دورہ کابل کے دوران کہا کہ پاکستان کے عام انتخابات سے چند روز پہلے پاکستانی وفد کا کابل کا دورہ کرنا افغانستان قیام امن کے لیے پاکستان کے عزم کا مظہر ہے۔

تہمنیہ جنجوعہ نے مزید کہا کہ پاکستان صدر اشرٖف غنی کی امن و مصالحت کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ حالیہ مہنیوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے رابطے دنوں ملکوں کے باہمی اعتماد کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

" میرا خیال ہے کہ جس قسم کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ادارتی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے، یہ رابطے مفید ثابت ہو رہے ہیں "

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پاکستان کے بارے میں ہونے والے سخت بیانات کا سلسہ بھی تھم گیا ہے۔ اسلام آباد اور کابل باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستا ن اور افغانستان کے اعلیٰ سفارت کاروں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش تیز ہو گئی ہے اور بعض اطلاعات کے بعد اس حولے سے طالبان اور امریکی عہدیداروں میں بلواسطہ بات چیت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں اگرچہ نا تو طالبان اور نا ہی امریکی عہدیداروں نے ان کی تصدیق کی ہے۔

طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں پاکستان کی اعلیٰ سفارت کار کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورہ کابل اہم ہے۔

"میرے خیال میں پاکستان کی بھی کوشش ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کا کوئی سلسلہ شروع ہو اور امریکہ بھی پاکستان پر بڑا دباؤ ڈال رہا ہے کہ افغان طالبان کو کسی طرح مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ میرے خیال میں اس میں پیش رفت بھی ہے اور پاکستان ایک بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ "

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان ادارتی سطح پر ایک دورسرے سے تعاون کر رہے ہیں جو افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کی کڑی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG