رسائی کے لنکس

logo-print

امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے: پاکستان


پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی گزرگاہ واہگہ پر پرچم اتارنے کی تقریب ہو رہی ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان پر واضح کر رکھا ہے کہ بندوقوں اور توپوں کی گھن گھرج کے دوران مذاکرات نہیں ہو سکتے اور پاکستان کو ہر صورت سرحد کے آر پار دہشت گرد کارروائیاں روکنی ہوں گی۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اسلام آباد نئی دہلی کے ساتھ تمام معاملات کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتا ہے لیکن پاکستان کی "امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔"

دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ بات بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس بیان کے ردِ عمل میں کہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ایک جنگ سے نہیں سدھرے گا۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے فون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے دکھ کی بات ہے کہ بھارت کی اندرونی سیاست میں پاکستان کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے۔

"یہ ایک مسئلہ ہے کیوں کہ وہاں (بھارت میں) انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لیے اس قسم کے بیانات وہاں سے آ رہے ہیں۔"

ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت کبھی بھی پاکستان میں سیاسی مسئلہ نہیں رہا ہے۔

ان کے بقول حال ہی میں پاکستان میں انتخابات ہوئے لیکن ان میں بھارت موضوعِ بحث نہیں تھا۔ "ہمارے ہاں دیگر موضوعات پر بات ہوتی ہے لیکن ہندوستان کے بارے میں بات نہیں ہوتی ہے۔"

محمد فیصل نے مزید کہا کہ "ہماری خواہش امن کی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وزیرِ اعظم پاکستان نے (بھارت کے وزیرِ اعظم کو) خط لکھا تھا جس میں تمام معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اور پھر بھارت اتفاق کرنے کے باوجود بعد میں پیچھے ہٹ گیا۔"

ترجمان نے کہا کہ بھارت کے اس رویے کے باوجود پاکستان نے مستقل مزاجی سے اپنی کوشش جاری رکھی اور وہ اسی طرح آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن ان کے بقول "ہماری امن کی خواہش کو قطعاً کوئی کمزوری نہ سمجھا جائے۔"

'پاکستان ایک جنگ سے نہیں سدھرے گا'

اس سے قبل بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئے سال کے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ سوچنا سخت غلطی ہو گی کہ پاکستان جلد سدھر جائے گا۔

بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ پاکستان کو سدھرنے میں وقت لگے گا۔

بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ اُن کی حکومت پاکستان پر دباؤ جاری رکھے گی۔ تاہم یہ ناممکن ہے کہ پاکستان جلد سدھرے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ چاہے یہ ’سرجیکل اسٹرئیکس‘ ہوں یا کسی اور سطح پر کوئی اور کارروائی، بھارتی حکومت پاکستان پر دباؤ جاری رکھنے کے لئے مختلف حکمت عملیاں اپنا رہی ہے تاکہ وہ بقول اُن کے دہشت گردی کو روکے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

وزیرِ اعظم مودی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور اچھی ہمسائیگی کے تعلقات کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم ان کےبقول یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمسایہ ملک سرحد کے آر پار دہشت گردی کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہے اور وہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کر رہا ہے۔

جب اُن سے سوال کیا گیا کہ ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کے باوجود پاکستان کی طرف سے سرحد کے آر پار دہشت گرد کارروائیاں کیوں رک نہیں رہیں، تو مودی نے کہا کہ اس بارے میں مناسب سطحوں پر مختلف حکمت عملیاں اپنائی جا رہی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ 1965ء کی جنگ ہو یا بٹوارے کے وقت ہونے والی جنگ، پاکستان ایک جنگ سے نہیں سدھرے گا اور اگر اس بات کی توقع کی جائے تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی۔

نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں بھی یہ کہا ہے کہ پاکستان کو سدھرنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

بھارتی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں چاہے یو پی اے کی حکومت ہو یا این ڈی اے کی، بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا ہے کیونکہ بات چیت جاری رکھنا بھارت کی دیرینہ حکمتِ عملی ہے۔

تاہم ان کے بقول بھارت نے پاکستان پر واضح کر رکھا ہے کہ بندوقوں اور توپوں کی گھن گھرج کے دوران مذاکرات نہیں ہو سکتے اور پاکستان کو ہر صورت سرحد کے آر پار دہشت گرد کارروائیاں روکنی ہوں گی۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس کے باعث بقول اُن کے دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر پاکستان نے اُنہیں سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تو کیا وہ اسلام آباد جائیں گے، مودی نے مبہم انداز میں جواب دیا کہ ہم یہ پل پار کرنے کا فیصلہ اُس وقت کریں گے جب ہم وہاں پہنچیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG