رسائی کے لنکس

گڈو، پاکستانی فلموں کا آخری پرستار

فرانسیسی ثقافتی مرکز کراچی ان دنوں پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنہری ماضی کو منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کر رہا ہے۔ زاہد گڈو خان انڈسٹری سے جڑی انمول یادوں کے مالک ہیں، ثقافتی مرکز اس خزانے کو عوام کے سامنے لاکر فلموں کے سنہرے ماضی کی تاریخ کو دہرانے کا نادر موقع فراہم کررہا ہے

پاکستان فلم انڈسٹری کا سنہرا ماضی یاد رکھنے والے اب کم رہ گئے ہیں۔ اور ’زاہد گڈو خان‘ انہی میں سے ہیں۔ ان کا براہ راست پاکستان فلم انڈسٹری سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا لیکن پاکستانی فلموں سے وہ جنون کی حد سے بھی کہیں زیادہ آگے نکل کر محبت کرتے ہیں۔فلموں سے دیوانہ وار محبت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت یہ بھی ہے کہ ایسے دور میں جبکہ انڈسٹری سے متعلق زیادہ تر مواد ضائع ہوچکا ہے، اس سے جڑی تقریباً ہرچیز وقت کی دھول میں چھپ گئی ہے، زاہد گڈو خان پاکستانی سینما کی تاریخ کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس 15 ہزار سے زیادہ فلمی پوسٹرز، فوٹو سیٹس، کتابچے، میگزین، کتابیں، گانوں کے ریکارڈز، آڈیو اور ویڈیو کیسٹس اور ایل پیز موجود ہیں۔

۔۔۔ اس خزانے کی کچھ جھلکیاں دیکھئے ان تصاویر میں:
مزید

پاکستانی فلموں کے کچھ فوٹو سیٹس۔ ان فلموں میں ”کالا پانی، مولاجٹ، انتظار، ملکہ“ اور دیگر شامل ہیں ۔
1

پاکستانی فلموں کے کچھ فوٹو سیٹس۔ ان فلموں میں ”کالا پانی، مولاجٹ، انتظار، ملکہ“ اور دیگر شامل ہیں ۔

 دیواروں پر آویزاں مختلف فلموں کے پوسٹرز۔ فلم ’نائلہ“کا پوسٹر بھی شامل ہے جو آج تک کامیاب فلم شمار ہوتی ہے۔
2

 دیواروں پر آویزاں مختلف فلموں کے پوسٹرز۔ فلم ’نائلہ“کا پوسٹر بھی شامل ہے جو آج تک کامیاب فلم شمار ہوتی ہے۔

کچھ اور فلموں کے پوسٹر زبھی اس تصویر میں نمایاں ہیں  
3

کچھ اور فلموں کے پوسٹر زبھی اس تصویر میں نمایاں ہیں

 

فلم” لو ان دی جنگل “کا پوسٹر ۔ یہ فلم 1970ء میں ریلیز ہوئی تھی۔  
4

فلم” لو ان دی جنگل “کا پوسٹر ۔ یہ فلم 1970ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

 

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG