فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے منگل کو ’یومِ غضب‘ منایا ہے جس میں سیکڑوں لوگ شریک ہوئے۔ اس دوران کچھ گروہوں کی اسرائیلی افواج سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین امریکہ کی اسرائیل اور فلسطین سے متعلق نئی پالیسی پر احتجاج کر رہے تھے۔
'یومِ غضب' منانے والے فلسطینی مظاہرین کی اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپیں
5
’یوم غضب‘ کا انعقاد فتح تحریک نے کیا تھا، جس میں گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کے معاملے پر سامنے آنے والے بیان پر احتجاج کیا گیا۔
6
ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے میں چار عشروں سے جاری امریکی پالیسی تبدیل کر دی گئی ہے اور اس میں فلسطین کی جانب سے ریاست کے حصول کی جگہ اسرائیلی مؤقف کو درست قرار دیا گیا ہے۔
7
ادھر، اسرائیلی رہنماؤں نے اس امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بستیوں کے مستقبل کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
8
خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی مشرق وسطیٰ کی لڑائی کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔ جس کے فوری بعد اسرائیل نے نئے حاصل کردہ علاقے پر بستیاں تعمیر کرنا شروع کر دی تھیں۔ ان دو علاقوں میں اب تقریباً 700000 اسرائیلی مقیم ہیں۔