رسائی کے لنکس

'پاکستان کی کوشش ہے کہ پنجشیر میں لڑائی کی صورتحال پیدا نہ ہو'


پنج شیر افغانستان (فائل فوٹو)

افغانستان کے لئے پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں افغانستان کی پنج شیر وادی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ وہاں لڑائی کی صورت حال پیدا نہ ہونے پائے اور اسکے لئے وہ خود بھی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر اسکی نوبت آئی بھی تو یہ محدود نوعیت کا تصادم ہوگا۔ لیکن قوی امید ہے کہ اسکی نوبت نہیں آئے گی۔

افغانستان کے بیشتر حصوں پر کنٹرول کے باوجود وادی پنج شیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں اب تک طالبان کی عملداری قائم نہیں ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہاں سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی سربراہی میں 'افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ' نے طالبان کی پیش قدمی روک دی ہے، اور اطلاعات کے مطابق، انہیں وادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ سابقہ دور میں بھی جب احمد شاہ مسعود حیات تھے، طالبان کو کبھی وادی پنج شیر پر کنٹرول حاصل نہیں ہوسکا تھا۔ تاہم 9/11 کے امریکہ پر حملے سے چند روز پہلے القائدہ کی جانب سے دہشت گردی کے ایک حملے میں انہیں ہلاک کردیا گیا تھا، جس کے بعد صورت حال میں وہ تبدیلی آئی جس کے نتیجے میں طالبان کی اس وقت کی حکومت ختم ہوئی۔

اس وقت بھی کم و بیش وہی صورت حال بن رہی ہے اور اس بار احمد شاہ مسعود کی جگہ انکا بیٹا احمد مسعود مزاحمت کی قیادت کر رہا ہے۔ تاہم، دوسری جانب طالبان کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو لڑائی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک جانب تو طالبان نے وادی کو باہر سے اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے اور دوسری جانب وادی کے اندر مزاحمت کی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔ مزاحمتی فرنٹ کے ترجمانوں کے بقول، وہ جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:03:55 0:00

فہیم دشتی طالبان مخالف فرنٹ کے رہنما احمد مسعود کے ایک قریبی معتمد اور ساتھی ہیں۔ وادی پنج شیر سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فرنٹ کی کوئی شرائط نہیں ہیں، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ افغانوں کی جو اقدار ہیں، ان کی پاسداری کی جائے۔ ملک میں جمہوریت قائم کی جائے۔ انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے اور طالبان جو حکومت قائم کریں وہ انکے خیال میں ایسی نہ ہو جیسی کہ وہ، بقول ان کے، افغان اقدار کے مطابق چاہتے ہیں، تو ان کے فرنٹ کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ فہیم دشتی نے کہا کہ مزاحمت جاری رہے گی اور طالبان کو ماضی کی طرح وادی پنج شیر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ کہ فرنٹ مزاحمت کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

انجنئیر کمال اس افغان پارلیمان کے ایک رکن ہیں جو طالبان کے قبضے سے پہلے فعال تھی اور جس کے بارے میں ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی حیثیت کیا ہے، کیونکہ طالبان نے نہ تو ابھی تک اس کی تحلیل کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی اس آئین کی معطلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ پارلمنٹ منتخب ہوئی تھی۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے وادی پنج شیر کا پڑوسی صوبوں بغلان، پروان وغیرہ کی جانب سے محاصرہ کر رکھا ہے۔ لیکن ساتھ ہی، بقول ان کے، طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ معاملات کو ہر امن طور سے حل کرنے کے لئے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ بقول ان کے احمد مسعود کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ لیکن بصورت دیگر وہ جنگ کے لئے بھی پوری طرح تیار ہیں۔

انجینئر کمال نے مزید بتایا کہ جو لوگ طالبان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے یا ان کے مخالف ہیں یا ان سے لڑنا چاہتے ہیں وہ آہستہ آہستہ وادی پنج شیر پہنچ کر وہاں پہلے سے موجود لوگوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اور انکی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں جنگ کے خطرات ہیں تو انکا جواب تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو یہ خطرہ بالکل موجود ہے۔

ایک افغان صحافی اور افغان امور پر تواتر سے لکھنے والے مصنف ڈاکٹر حسین یاسا کا، جو روز مرہ کی بنیاد پر افغانستان سے رابطے میں رہتے ہیں، وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی صورت حال قابو میں ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وفود کی آمد و رفت بھی جاری ہے اور کابل سے فرنٹ کے ذمہ داروں کے ٹیلیفونک رابطے بھی چل رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ احمد مسعود اور انکے فرنٹ کا کہنا ہے کہ وہ اسوقت تک کسی کی قوت کے سبب اسکے سامنے نہیں جھکیں گے جب تک کہ یہ ضمانت نہ دی جائے کہ ملک میں ایک باقاعدہ سیاسی نظام قائم کیا جائے گا۔ اور صرف طالبان کی نہیں بلکہ سب کی شمولیت پر مبنی حکومت بنائی جائے گی۔ اور انہوں نے کہا کہ فرنٹ کا یہ بھی موقف ہے کہ گزشتہ بیس برس میں جمہوریت کے حوالے سے جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر یاسا کا مزید کہنا تھا کہ وادی پنج شیر کی جیو اسٹریٹیجک لوکیشن ایسی ہے کہ طالبان کے لئے وہاں لڑنا کوئی آسان بات نہ ہو گی۔ اور انکا ماضی کا تجربہ بھی اسکا گواہ ہے کہ اپنے پچھلے دور میں وہ وادی پنج شیر پر کبھی کنٹرول حاصل نہیں کر سکے تھے۔

صورت حال بہت غیر یقینی ہے۔ نہیں کہا جا سکتا کہ آنے والے دنوں بلکہ گھنٹوں میں صورت حال کیا ہوگی۔ مستقبل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے تاہم فی الحال پنج شیر کے حوالے سے یہ ہی صورت حال ہے جو اس رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG