رسائی کے لنکس

ان دھماکوں کے بعد سے شیعہ برادری پاڑا چنار کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی احتجاج کر رہی ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے مرکزی شہر پاڑا چنار میں گزشتہ ہفتے یکے بعد دیگرے ہونے والے دو بم دھماکوں کے خلاف اس قبائلی علاقے کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

پاڑا چنار کی آبادی کی اکثریت شیعہ ہے۔ عید الفطر سے محض تین روز قبل 23 مئی کی شام لوگوں کی ایک بڑی تعداد علاقے کے مرکزی بازار میں خریداری میں مصروف تھی کہ پہلا دھماکا ہوا اور جب لوگ ہلاک و زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے پہنچنا شروع ہوئے تو دوسرا دھماکا ہو گیا۔

ان دھماکوں کے بعد سے شیعہ برداری پاڑا چنار میں احتجاج اور دھرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب اس قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے وفاقی دارالحکومت میں بھی احتجاج کر رہے ہیں اور عید الفطر کے تیسرے روز بھی اُنھوں نے اپنا دھرنا جاری رکھا اور علامتی ریلی بھی نکالی۔

اسلام آباد میں جاری احتجاجی دھرنے میں شامل افراد
اسلام آباد میں جاری احتجاجی دھرنے میں شامل افراد

اسلام آباد میں جاری احتجاج میں شامل محمود طوری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاڑا چنار میں بسنے والوں کو طالبان اور داعش دونوں سے خطرہ ہے۔

’’جو سرحد ہے، اُس پر ہم نے مسلسل داعش اور طالبان کی موجودگی دیکھی ہے۔۔ اُن لوگوں (داعش) نے پمفلٹ بھی پھینکے ہیں اور ہمیں دھمکیاں بھی ملی ہیں۔ (اُن کی موجودگی) کا ثبوت یہ ہے کہ تین چار دھماکے مسلسل ہوئے ہیں۔‘‘

محمود طوری کہتے ہیں کہ ’’ہمیں تحفظ دیا جائے، ہمیں پاکستانی سمجھا جائے۔۔۔۔ شیعہ ہونے پر ہمیں ہدف بنایا جا رہا ہے۔‘‘

کرم ایجنسی میں حالیہ مہینوں میں ہونے والا دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

محمد عیسٰی بھی اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں میں شامل ہیں۔ اُن کہنا ہے کہ پاڑا چنار کے لوگ تحفظ چاہتے ہیں۔

’’باوجود اس کے کہ ہمارے ساتھ وعدے کیے گئے کہ ہم آپ کو تحفظ دیں گے، آپ کے جو بھی مسائل ہیں اُن کو حل کر لیا جائے گا لیکن آج تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔‘‘

محمد عیسٰی کہتے ہیں کہ پاڑا چنار میں جاری احتجاج میں شامل افراد کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ یا وزیر داخلہ چوہدری نثار علاقے کا دورہ کریں تو اُنھی سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب کے علاقے احمد پور شرقیہ کے قریب ایک آئل ٹینکر میں آتشزدگی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ایک سرکاری بیان جاری ہوا کہ وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں اپنے قیام کو مختصر کرتے ہوئے وطن واپس پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اُن کے بقول پاڑا چنار میں بھی دہشت گردی سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے لیکن وہاں وزیراعظم ابھی تک نہیں گئے جس سے اس قبائلی علاقے کے لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’’آئی ایس پی آر‘‘ سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ عید کا دوسرا دن پاڑا چنار میں گزاریں گے لیکن بعد ازاں موسم کی خرابی کے سبب یہ دورہ موخر کر دیا گیا۔

کرم ایجنسی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 70 سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ بیسیوں افراد زخمی ہیں۔

اس قبائلی علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد جس طرح ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے امداد کا اعلان کیا جاتا ہے، اُس طرح کا اعلان پاڑہ چنار دھماکے کے متاثرین کے لیے بھی کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG