رسائی کے لنکس

logo-print

والدین کی طرف سے آن لائن معلومات شائع کرنے پر بچے فکر مند: جائزہ رپورٹ


'یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف انفارمیشن' کی طرف سے مارچ میں شائع ہونے والے ایک سائنسی پرچے میں محققین نے کہا کہ والدین کے مقابلے میں بچے بالغوں کی طرف سے ٹیکنالوجی کے استعمال پر دوگنے فکرمند تھے۔

والدین گاڑی چلاتے ہوئے فون پر بات نا کریں ،جب بچے بات کر رہے ہوں تو والدین فون پر مصروف نا ہوں اور بچوں کی تصاویر کو ان کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر پوسٹ نا کیا جائے یہ انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کےحوالے سے وہ پابندیاں ہیں، جو ایک حالیہ جائزے کے مطابق بچے والدین پر لگانا چاہتے ہیں۔

'یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف انفارمیشن' کی طرف سے مارچ میں شائع ہونے والے ایک سائنسی پرچے میں محققین نے کہا کہ والدین کے مقابلے میں بچے بالغوں کی طرف سے ٹیکنالوجی کے استعمال پر دوگنا زیادہ فکرمند تھے۔

نتائج کی بنیاد پر مطالعے کے مصنفین نے لکھا کہ بچے ان کے بارے میں زیادہ معلومات آن لائن پوسٹ کرنے کے حوالے سے والدین کے طرز عمل پر سخت متفکر تھے اور چاہتے تھے کہ والدین ان کے بارے میں کچھ بھی آن لائن اشتراک کرنے سے پہلے ان کی اجازت طلب کریں۔

تحقیق کی اہم مصنف محقق لانا یاروش سریتا شانیبیک نے کہا کہ بچوں کی طرف سے 'شرمندگی' کا لفظ زیادہ استعمال کیا گیا جبکہ، دوسرا لفظ 'اجازت 'تھا جس کا انھوں نے استعمال کیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں پوسٹ کی جانے والی معلومات پر کنٹرول چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ دنیا کے کچھ حصوں میں ممکنہ طور پر سنگین قانونی مسئلہ ہے جیسا کہ فرانس میں حکام کی طرف سے والدین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ان کے بچے رازداری یا سلامتی کے لیے ان کے حق کی خلاف ورزی کرنے پر مستقبل میں ان پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف مشی گن اور یونیورسٹی آف واشنگٹن کے تجزیہ کاروں نے گھروں میں ٹیکنالوجی کے قواعد کو سمجھنے کے لیے ایک مطالعہ میں امریکہ کے 40 مختلف ریاستوں میں رہنے والے249 والدین کو شامل کیا جن کے بچوں کی عمریں 10 سے 17 برس کے درمیان تھیں۔

مخصوص سیاق وسباق میں والدین کو گھروں میں قواعد نافذ کرنے میں مشکل تھی اور ان کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے مقابلے میں حدود مقرر کرنا زیادہ مشکل تھا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ دس سے سترہ برس کے نوجوانوں کا 'ٹیکنالوجی کے استعمال' کو محدود کرنے کے قوانین پر عمل کرنا مشکل تھا تاہم ان میں 'ٹیکنالوجی کی سرگرمیوں' کو محدود کرنے کے قواعد پر عمل کرنے کا امکان تھا۔

مطالعے میں بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں والدین کے خدشات پر بھی توجہ مرکوز رکھی گئی جبکہ بچوں سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے گھر کی ٹیکنالوجی کے قوانین کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور وہ اپنے والدین کے آن لائن رویے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

عام طور پر بچے ان کے بارے میں مثبت آن لائن اشتراک پر ناخوش نہیں تھے۔

لیکن جو چیز ان کے لیے ٹھیک نہیں تھی، وہ والدین کی طرف سے ان کی بچپن کی تصاویر کا اشتراک تھا۔

تحقیق سے ظاہر ہوا کہ بچے اپنی آن لائن تصاویر کے اشتراک کے حوالے سے اختیار چاہتے تھے اور والدین کی طرف سے تصاویر کے اشتراک پر ان کے جذبات مجروح ہوئے تھے۔

تحقیق کی سربراہ مشی گن یونیورسٹی کی محقق پروفیسر الیکیسیس ہناکر نے کہا کہ بچوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود کرنا ایک وقت میں آسان تھا جب والدین شو ختم ہونے پر ٹی وی بند کر سکتے تھے یا پھر گھر کے کمپیوٹر پر نظر رکھتے ہوئے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود کر سکتے تھے لیکن آج گھر کے بہت سے افراد کے پاس اسمارٹ فون ہوتا ہے اور ایسے میں پابندیاں یا قواعد نافذ کرنا اور اس پر عمل کرنا مشکل سے مشکل ترین ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG