رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں قیام امن سے خطے میں اقتصادی روابط مضبوط ہوں گے، عمران خان


عمران خان بیجنگ میں سرمایہ کاروں کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے آج اتوار کے روز بیجنگ میں کاروباری شخصیات کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں معاشی ترقی اور اقتصادی رابطوں کو فروغ دینے کیلئے افغانستان میں قیام امن کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے مدد فراہم کر رہا ہے۔ عمران خان نے اجتماع میں شریک کاروباری شخصیات کو بتایا کہ تمام وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو (بی آر آئی) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی اور ان تمام رہنماؤں نے افغانستان میں قیام امن کے ذریعے خطے میں رونما ہونے والے مثبت اقتصادی ثمرات کا ذکر کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قیام امن سے خود افغانستان کو بھی بے انتہا فائدہ پہنچے گا جسے چار دہائیوں سے جاری لڑائی سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان امن کا مستحق ہے اور افغانستان میں امن قائم ہونے سے پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے پاکستان اور وسطی ایشیائی ملکوں کے درمیان اقتصادی روابط پیدا ہوں گے جو خود افغانستان کی معاشی ترقی کیلئے فائدہ مند ہوں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کیلئے بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد دے رہا ہے اور اب اُمید نظر آنے لگی ہے کہ وہاں امن قائم ہو گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات کی بھی کوشش کر رہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت ہو۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ دونوں فریقین میں سیاسی تصفیہ ہو جائے گا۔

افغانستان کیلئے امریکہ کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار زلمے خلیل زاد پیر کے روز اسلام آباد پہنچنے والے ہیں جہاں وہ افغانستان میں امن مذاکرات کے سلسلے میں پاکستانی حکام سے صلاح مشورہ کریں گے۔ تاہم افغانستان کی ٹولو نیوز سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہونے کے بعد بھی افغانستان میں مکمل طور پر امن بحال کرنا مشکل ہو گا کیونکہ داعش کے طرف سے بھی حملوں کا خطرہ موجود رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG