رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں دہشت گردوں کےمبینہ ٹھکانوں پر تحفظات


پینٹگان کی ایک حالیہ رپورٹ میں جہاں افغانستان میں متعین نیٹو افواج کےلیے سپلائی لائنز کھولنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں بہتری اور بڑھتے ہوئےباہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے وہاں پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کےحوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے

امریکی کانگریس کے مطالبے پر پینٹگان کی جانب سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں افغانستان میں متعین نیٹو افواج کےلیے سپلائی لائنز کھولنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں بہتری اور بڑھتے ہوئے باہمی تعاون پر اطمینان ظاہر کیا گیا ہے، تو دوسری طرف پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کےحوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں مقیم ایک تجزیہ کار عارف انصار نے اِس رپورٹ کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اسی رپورٹ میں 2014ء کے بعد آئینی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جِن میں افغانستان میں بدعنوانی، افغان فورسز کی اپنی ذمہ داریاں اٹھانے کی صلاحیت اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانےکی تفاصیل شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان میں دہشت گردوں کے یہ ٹھکانےموجود ہیں، افغانستان میں دیرپہ قیامِ امن ممکن نہیں ہے۔

پاکستان سے معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ر) طلعت مسعود نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے بارے میں مثبت پالیسی اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے اور اِسی طرح افغانستان سےپاکستان کے اندر مشرق اور جنوب سے آنے والے مبینہ افغان دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی ناقابلِ قبول ہیں۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجئیے:

please wait

No media source currently available

0:00 0:00:00 0:00
XS
SM
MD
LG