رسائی کے لنکس

logo-print

مریخ پر بسنے کے لیے 2 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول


مستقبل میں مریخ کے ان رہائشیوں کو سات سال کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ یہ لوگ اپنی باقی ماندہ زندگی اسی سیارے پر گزاریں گے۔

مریخ پر رہائش کے لیے دنیا بھر سے تقریباً 2 لاکھ سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کراوئی ہیں۔

یہ بات ’مارس ون‘ نامی فاؤنڈیشن نے بتائی جو 2023ء میں اس سیارے پر انسانوں کے لیے ایک مستقبل بستی آباد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فاؤنڈیشن کو اپریل سے درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئی تھیں اور اس کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا بھر سے دو لاکھ دو ہزار پانچ سو چھیاسی لوگوں نے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ ان میں سے ایک چوتھائی کا تعلق امریکہ، دس فیصد کا بھارت، اور چھ فیصد کا تعلق چین سے ہے۔

آئندہ مہینوں میں ان درخواستوں میں سے لوگوں کو منتخب کیا جائے گا جنہیں رواں سال کے اختتام تک مطلع کر دیا جائے گا۔

منتخب ہونے والے افراد کو سخت جسمانی اور ذہنی مشقیں کروائی جائیں گی اور 24 سے 40 سال عمر کے دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والوں کی دو ٹیمیں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان مقابلے کروائے جائیں گے۔ 2015ء تک ان میں سے حتمی فہرست تیار کی جائے گی۔

مستقبل میں مریخ کے ان رہائشیوں کو سات سال کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ یہ لوگ اپنی باقی ماندہ زندگی اسی سیارے پر گزاریں گے۔

مارس ون فاؤنڈیشن کے مطابق ابتدائی مشن پر چھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ اس تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق ’’دستیاب ٹیکنالوجی کے ساتھ مریخ پر انسانی بستی بسانا آج بھی ممکن ہے۔‘‘
XS
SM
MD
LG