رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان امن مذاکرات سے افغان عوام میں مایوسی


افغان امن مذاکرات میں طالبان کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار ملا شیر محمد عباسی سٹانکزئی (فائل)

طالبان کے ترجمان نے سٹانکزئی کے طالبان نواز میڈیا کو دئے گئے انٹرویو کی ریکارڈنگ آج بدھ کے روز جاری کی ہے، جس میں سٹانکزئی نے کہا ہے کہ اگلے مذاکرات کے بعد ایک وسیع تر اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کے نمائیندے بھی شریک ہوں گے

امریکہ اور طالبان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں دو ٹیکنکل کمیٹیاں تشکیل دینے پر رضامند ہو گئے ہیں جو ایسا نظام تیار کریں گی جن میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجوں کے انخلا اور دہشت گردوں کو امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف دہشت گردانہ حملے کرنے کیلئے افغانستان کی سر زمین استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔

طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا شیر محمد عباسی سٹانکزئی نے امریکی نمائیندے زلمے خلیل زاد کے ساتھ دوحہ میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مذکرات کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ٹیکنکل کمیٹیاں اس سلسلے میں تجاویز تیار کر کے مذاکرات کے اگلے راؤنڈ میں پیش کریں گی جو 25 فروری کو دوحہ میں ہو گا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سٹانکزئی کے طالبان نواز میڈیا کو دئے گئے انٹرویو کی ریکارڈنگ آج بدھ کے روز جاری کی ہے جس میں سٹانکزئی نے کہا کہ اگلے مذاکرات کے بعد ایک وسیع تر اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کے نمائیندے بھی شریک ہوں گے جو اس بات کے ضامن ہوں گے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجی حقیقی طور پر نکل جائیں گے۔ اس اجلاس میں طالبان بھی اس بات کی یقین دہانی کرائیں گے کہ کسی کو بھی بین الاقوامی دہشت گردی کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم، افغانستان کے انگریزی روزنامے ’کابل ٹائمز‘ کے چیف ایڈیٹر حمید اللہ عارفی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے عوام ان مذاکرات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ افغان حکومت کو ان مذاکرات سے الگ کر دیا گیا ہے۔

حمیداللہ عارفی کا کہنا تھا کہ افغان عوام اس بارے میں بھی پریشان ہیں کہ سابق سوویت یونین کی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد اقتدار نجیب حکومت کے پاس چلا گیا تھا اور یوں افغان عوام یہ خدشہ محسوس کرتے ہیں کہ ان مذاکرات کے بعد بھی ایسی ہی غلطی کو دہرایا جا سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات جاری ہیں، دہشت گرد گروپ افغان حکومت اور عوام پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور طالبان کے علاوہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش بھی بہت فعال دکھائی دیتی ہے جس سے افغان عوام میں شدید مایوسی اور پریشانی پائی جاتی ہے اور ان مذاکرات کو شبہے کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے حمیداللہ عارفی نے کہا کہ افغان عوام افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کو اہم گردانتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مدد نہ کرتا تو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات ممکن ہی نہ ہوتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان راہنماؤں کے افراد خانہ زیادہ تر پاکستان میں مقیم ہیں اور پاکستان طالبان پر دباؤ ڈال کر اُنہیں امن بات چیت کیلئے راضی کر سکتا ہے۔ حمیداللہ کہتے ہیں کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کی آخری دو دن میں پاکستانی نمائیندوں کی بھی شرکت کی اطلاع ملی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت نے حال ہی میں طورخم سرحد بھی کھول دی ہے اور اُن کے خیال میں امریکی دباؤ کے نتیجے میں پاکستان بہت مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائیندے ایاز گل کا کہنا ہے کہ طالبان کے مذاکرات کار اعلیٰ کے میڈیا کو دئے گئے بیان کے حوالے سے افغان حکومت یا امریکہ کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائیندے زلمے خلیل زاد نے پیر کے روز طالبان سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں کچھ تفصیلات جاری کی تھیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ دونوں فریقین اصولی طور پر متفق ہو گئے ہیں جس میں القاعدہ اور داش جیسے بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کی طرف سے امریکہ، اُس کے اتحادیوں اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔

اس کے جواب میں امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔ تاہم، اس کیلئے طالبان کو فائر بندی پر عمل کرنا ہو گا اور افغان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کرنا ہو گا۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ عجلت میں نہیں کیا جانا چاہئیے۔

افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر رائن کراکر کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ سمجھوتا مکمل سرینڈر کے مترادف ہے اور اس کا موازنہ ویت نام جنگ کے دوران پیرس میں ہونے والے سمجھوتے سے کیا جا سکتا ہے جس میں ایک اعتبار سے امریکہ نے اپنی شکست تسلیم کر لی تھی۔

سفیر رائن کراکر نے امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ہے کہ اس سمجھوتے کیلئے طالبان یہ جانتے ہوئے بہت سے وعدے کر لیں گے کہ امریکہ کے انخلا اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد اُن وعدوں پر عمل درآمد کرانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG