رسائی کے لنکس

فائزر دسمبر میں ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار


فائل فوٹو
فائل فوٹو

دوا ساز کمپنی فائزر نے کہا ہے کہ اس نے امریکی ریگولیٹرز سے درخواست کی ہے کہ اسے کووڈ۔19 کے لیے اپنی تیار کردہ ویکسین کی ایمرجنسی میں استعمال کی فوری اجازت دی جائے، جس کی پہلی خوراک وہ اگلے مہینے تک فراہم کر سکتی ہے۔

تاہم کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سردست وہ صرف محدود مقدار میں ہی ویکیسن فراہم کر سکے گی جسے ایمرجنسی میں ہی استعمال کیا جا سکے گا۔

فائزر کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے اختتام سے قبل زیادہ مقدار میں ویکسین کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس کی ویکسین سے مہلک عالمی وبا کرونا وائرس کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

فائزر کی جانب سے یہ اعلان ان کی جانب سے اس دعویٰ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس کی ایک جرمن بائیوٹیک کمپنی کی شراکت میں تیار کی جانے والی ویکسین کرونا وائرس کے خلاف 95 فی صد تک مؤثر ہے۔

فائزر نےکہا ہے کہ اس کی ویکسین کے تجربات کی کامیابی کی حتمی شرح 95 فی صد رہی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اب تک کے تجربات میں فائزر اور اس کے ساتھ شریک جرمنی کی کمپنی بائیونٹک کی تیارکردہ ویکسین کی کامیابی کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔ اور اسے کووڈ نائنٹین کے خلاف کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کرونا وائرس کی ویکسین کیسے کام کرے گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:37 0:00

فائزر نے اپنے ٓآخری مرحلے کے تجربات میں 43,000 افراد کو ویکسین دی تھی، جن میں سے 170 رضاکار کووڈ نائنٹین میں مبتلا ہوئے۔ لیکن ان میں سے 162 افراد کو ایسا انجکشن دیا گیا تھا جس میں ویکسین موجود نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوا 95 فی صد کارآمد رہی۔ دس افراد جو کرونا کا شکار ہوئے ان میں سے صرف ایک پر حملے کی شدت زیادہ تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رہورٹ کے مطابق فائزر کمپنی نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنیسٹریشن اس کے تجربے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا دسمبر میں جائزہ لے گی۔

فائزر کا اپنی ویکسین کی کامیابی کا حتمی اعلان ایک اور بائیو ٹیکنالوجی کمپنی موڈرنا کے اس دعویٰ کے کچھ ہی روز بعد آیا ہے جس میں موڈرنا نے اپنے تجربات کو 94.5 فیصد مؤثر قرار دیا تھا۔

سائنس دانوں نے دو موثر ویکسنوں کے ایک سال سے بھی کم مدت میں بنائے جانے کو ایک غیرمعمولی کامیابی قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق غیر متوقع طور پر کامیاب نتائج کے بعد اب قوی امید پیدا ہو گئی ہے کہ 13 لاکھ سے زیادہ انسانی زندگیاں نگلنے والے اس موذی مرض پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG