رسائی کے لنکس

افغانستان میں امریکی جنگ کی نجکاری کی تجاویز پر 'سرد مہری'


امریکہ میں ایک بڑی نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کی طرف سے افغانستان میں امریکی جنگ کے ایک بڑے حصے کی نجکاری کرنے کی تجویز پر کابل اور واشنگٹن کے بڑے حلقوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے اس تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

پرنس کا استدلال ہے کہ یہ تجویز اخراجات کے حساب سے موثر ہے اور اس سے جنگ کا پانسہ پلٹا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کے تحت افغان فورسز کو مشاورت فراہم کرنے والے فوجیوں کی جگہ تقریباً پانچ ہزار کنٹرکٹرز کو تعینات کیا جائے گا جنہیں نجی فضائی قوت کی معاونت حاصل ہوگی۔ پرنس کے مطابق یہ کنٹریکٹرز افغان حکام کے زیر کنٹرول ہوں گے۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس سے گفتگو کرتے ہوئے پرنس کا کہنا تھا کہ " یہ سب مرکزی افغان حکومت اور افغان مسلح افواج کے سربراہ کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یہ کوئی مقامی ملیشیا نہیں ہے جو بننے جا رہی ہے۔"

لیکن کئی اہم افغان حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ پرنس کی یہ نجی فوج احتساب سے بالا ہوگی اور ان کے بقول اس اقدام سے بلیک واٹر کے کارندے ویسے ہی مظالم ڈھا سکتے ہیں جو انھوں نے گزشتہ دہائی میں عراق اور افغانستان میں کیے۔

افغان حکومت نے تاحال اس تجویز پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن ایک سینیئر افغان دفاعی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ " اس منصوبے کے لیے قانونی پیچیدگیاں ہیں اور یہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی سکیورٹی معاہدوں پر سوالات اٹھاتا ہے۔"

اس وقت افغانستان میں لگ بھگ نو ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کی اکثریت جنگ کی بجائے افغان فورسز کی تربیت میں مصروف ہے۔ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کا افغانستان میں لڑاکا مشن 2014ء میں ختم ہو چکا ہے۔

اس کے بعد سے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی افغان فورسز کو طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے اور کئی علاقے سرکاری کنٹرول سے نکل ہو چکے ہیں۔ کابل کی حکومت اس وقت ملک کے نصف سے تھوڑے زیادہ حصے پر عملداری رکھتی ہے۔

پینٹاگان کے اعلیٰ عہدیداران بشمول وزیردفاع جم میٹس اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی۔

ایرک پرنس وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بات کر رہے ہیں
ایرک پرنس وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بات کر رہے ہیں

یہ ایک مہنگی جنگ بھی ہے۔ امریکہ کو اس سال تقریباً 45 ارب ڈالر یہاں صرف کرنا ہوں گے۔

ایرک پرنس کی تجویز کے مطابق امریکہ کی یہ جنگ "وائسرائے" کے ذریعے مربوط کی جائے گی۔ پانچ ہزار کنریکٹرز افغان فوجی یونٹس کے ساتھ منسلک ہوں "انھیں تربیت دیں گے اور ضرورت پڑی تو ان کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اور وہ افغان حکومت کو رپورٹ کریں گے۔"

پرنس نے "ایک بڑی فضائیہ" کی بھی تجویز دی۔ اس میں ان کی نجی فضائی فورس کے 90 طیارے شامل ہوں گے جن پر "افغان فضائیہ کا نشان اور ان کے اشارے ہوں گے اور اس پر ایک افغان بھی سوار ہو گا اور بمباری کا حکم بھی افغان حکام ہی دیں گے۔"

لیکن پرنس کے اس منصوبے کو مخالفت کا سامنا بھی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان سے متعلق نئی تجاویز سننے پر آمادہ ہیں۔ لیکن اگر وہ پرنس کے منصوبے کو مان لیتے ہیں تو یہ امریکی فوجی کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی مخالفت ہو گی جو اس تجویز کو پسند نہیں کرتے۔

افغانستان میں بھی ایک وسیع حلقہ اس تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ "سختی" سے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ افغانستان کی قومی خودمختاری کی "صریح خلاف ورزی ہے۔"

افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ شہریوں کے مزید غصے کا باعث بنے گا جس سے طالبان کو اپنے لیے لوگ بھرتی کرنے میں مدد ملے گی۔

صدر ٹرمپ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ افغانستان سے متعلق جلد ہی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ پرنس کی تجاویز کے علاوہ ان کے پاس افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے یا کلی طور پر یہاں سے انخلا کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG