پلاسٹک اور پلاسٹک سے بنی اشیا سمندر اور اس میں رہنے والی آبی حیات کے لیے انتہائی خطرناک تو ہیں ہی ساتھ ہی یہ انسانی غذائی اشیا اور کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو بھی آلودہ کرنے کا بڑا سبب بن رہی ہیں۔
پلاسٹک کا بڑھتا استعمال: سمندر، غذا اور ماحول کے لیے ایک نیا چیلنج
5
ورلڈ وائلڈ لائف اور آسٹریلین یونیورسٹی آف نیو کیسل میں ہونے والی ایک ریسرچ میں کہا گیا گیا ہے کہ ہر شخص ہفتے میں تقریباً پانچ گرام پلاسٹک نگل جاتا ہے۔ یہ مقدار ایک مہینے میں 21 گرام اور ایک سال میں ڈھائی سو گرام تک جا پہنچتی ہے۔
ورلڈ وائلڈ لائف اور آسٹریلین یونیورسٹی آف نیو کیسل میں ہونے والی ایک ریسرچ میں کہا گیا گیا ہے کہ ہر شخص ہفتے میں تقریباً پانچ گرام پلاسٹک نگل جاتا ہے۔ یہ مقدار ایک مہینے میں 21 گرام اور ایک سال میں ڈھائی سو گرام تک جا پہنچتی ہے۔
6
ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں آٹھ ملین میٹرک ٹن پلاسٹک کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے اگر پاکستان پر نظر دوڑائیں تو پلاسٹک سے وابستہ ملکی صنعت 15 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
7
پلاسٹک سے بنی بوتلوں کے ڈھکن بوروں میں بھرے ہوئے ہیں جبکہ یہ ڈھکن ساحل پر ہی نہیں بلکہ سڑکوں، دفاتر اور گھروں میں بھی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے ضائع کردیے جاتے ہیں۔
8
سافٹ ڈرنکس کی بوتلوں کا استعمال ساری دنیا میں عام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ری سائیکل کر کے کئی دوسری اور بے ضرر اشیا بنائی جاسکتی ہیں۔