رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں بیوہ اور غیر شادی شدہ خواتین کی بڑھتی تعداد 'سماجی المیہ'


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی مسلح جدوجہد کے دوران ہزاروں کشمیری نوجوان ہلاک جب کہ کئی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ ان نوجوانوں کی ہلاکت کی وجہ سے ہزاروں کشمیری خواتین بیوہ اور کئی بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق متنازع علاقے میں گزشتہ 31 برس سے جاری شورش کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں کی تعداد میں معذور ہو چکے ہیں۔ جب کہ سرکاری اعداد و شمار میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے نصف بتائی جاتی ہے۔

اس تنازع کا پہلا اور سب سے المناک نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ ہزاروں خواتین نوجوانی میں بیوہ ہو گئی ہیں اور یتیموں کی تعداد اس سے دگنی یا تین گنا ہے۔

صورتِ حال پر نظر رکھنے والوں اور ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ چوں کہ ہلاک ہونے والوں کی غالب تعداد مردوں خاص طور پر 15 سے 30 سال کی عمر کے افراد کی ہے جس سے کشمیری آبادی کے تناسب میں جنس کے لحاظ سے عدم توازن پیدا ہوا ہے۔

دوسری طرف نوجوان بیوہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کشمیریوں کے لیے ایک بہت بڑا معاشرتی مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ 1500 سے 2000 تک ایسی خواتین بھی ہیں جن کے شوہر جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اپنوں سے جدا ہوئے۔

ان خواتین کو اب 'نیم بیوہ' اور ان کے بچوں کو 'نیم یتیم' کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تشدد اور رسومات لڑکیوں کے گھر بسانے کی راہ میں حائل

مبصرین کے مطابق کشمیری خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کے گھر بسانے کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔

تاہم جہیز اور دوسرے سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ معاشرے میں رائج ایسی رسومات جو کشمیری مسلمانوں کی سماجی تاریخ میں پہلے موجود نہیں تھیں اب ان پر عمل ہوتا ہے۔ جسے لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم ‘تحریکِ فلاح المسلمین’ کا کہنا ہے کہ صرف وادیٴ کشمیر میں ایسی غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 10 ہزار سے زیادہ کا تعلق دارالحکومت سرینگر سے ہے۔'

'سماج کے لیے المیہ'

یونیورسٹی آف کشمیر کی سابق پروفیسر ڈاکٹرحمیدہ نعیم کہتی ہیں کہ ایسی لڑکیوں اور خواتین کی تعداد جو بھی ہو یہ ایک حقیقت ہے کہ شادی نہ ہونا صرف ان کے والدین بلکہ پورے سماج کے لیے ایک المیے سے کم نہیں۔ اس کے کئی سماجی اثرات اور مضمرات ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے ان محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برسوں سے جاری تشدد میں انسانی جانوں کے زیاں کے نتیجے میں نوجوانوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک سماجی بدعات اور شادی بیاہ سے جڑی رسومات نے غریب اور نادار والدین کے لیے اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنا مشکل بلکہ ناممکن بنا دیا ہے۔

شادی بیاہ پر جہیز اور دوسری غیر ضروری رسومات

ڈاکٹر حمیدہ نعیم کا کہنا تھا کہ آج کل تقریباََ ہر لڑکی شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے اپنے پاؤں پر کھڑی ہونا چاہتی ہے۔ اُن کے بقول ایسی لڑکیوں کو اب اچھے رشتے بھی مل جاتے ہیں۔

ان کے بقول دوسری وجہ یہ ہے کہ معاشرتی برائیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ پیسہ بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ شادی بیاہ پر جہیز اور دوسری رسومات غالب آگئی ہیں۔

کشمیر میں خواتین ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:21 0:00

ڈاکٹر حمیدہ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بچیوں کے وقت پر نہ بیاہے جانے کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے لڑکے جو ان کے لائف پارٹنرز بن سکتے تھے قبرستانوں میں آسودہِ خاک ہیں۔

چند ایک مقامی غیر سرکاری تنظیموں نے کچھ عرصہ پہلے نادار اور غیر مراعات یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں کرانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

منتظیمن کا کہنا ہے کہ پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی طرف سے جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم کرنے کے اقدام سے پیدا شدہ زمینی صورتِ حال اور پھر کرونا وائرس کے نتیجے میں اجتماعی شادیوں کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔

غیر یقینی سیاسی صورتِ حال اور کرونا وبا سماجی کاموں میں حائل

حمیدہ نعیم ایک سول سوسائٹی کارکن ہیں اور 'کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹڈیز' نامی تنظیم کی سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس محاذ پر تحقیق و ترغیب کا کام کر رہی تھیں اور ایسی لڑکیوں کی معاونت کرنے کا بھی منصوبہ بن چکا تھا۔ لیکن پانچ اگست 2019 کے بعد وہ سب مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زبان تک نہیں کھول سکتے۔ کام کرنے کا سوال ہی پیدا ہوتا۔ وہ چوں کہ سیاسی معاملات پر بھی بات کرتی تھیں اس لیے کبھی کبھی آپ کو زندہ رہنے کے لیے خاموش رہنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول کرونا وائرس نے ان سب کی حالت اور زیادہ خراب کر دی ہے۔

تحریکِ فلاح المسلمین کے شریک بانی عبدالرشید نائیک کا کہنا تھا کہ اس تنظیم نے 2016 میں ایسی لڑکیوں کے ایک گروپ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی جو مالی وجوہات کی بنا پر شادی کی عمر پار کرنے کے باوجود کنواری بیٹھی تھیں۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ حقیقتاََ ان کے گھر بسانے میں ناکامی کے پیچھے کئی اور عوامل بھی ہیں۔

ان کے بقول انہوں نے کوئی 100 ایسی غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تلاش شروع کی تھی لیکن سروے کے دوران انہیں پتا چلا کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان کے والدین یا سر پرست ان کے ہاتھ اس لیے پیلے نہیں کر پا رہے تھے کیوں کہ ان کے پاس جہیز اور دوسرے تقاضوں کو پورا کرنے اور رسومات انجام دینے کے لیے وسائل موجود نہیں تھے۔

ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ کشمیری خواتین شادی بیاہ کی عمر کو عبور کرنے کے بعد بھی زندگی کے شراکت دار نہیں ڈھونڈ سکی ہیں اور ان کے گھر بسانے کا خواب شرمندہء تعبیر نہیں ہو رہا ہے۔ (فائل فوٹو)
ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ کشمیری خواتین شادی بیاہ کی عمر کو عبور کرنے کے بعد بھی زندگی کے شراکت دار نہیں ڈھونڈ سکی ہیں اور ان کے گھر بسانے کا خواب شرمندہء تعبیر نہیں ہو رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیری مسلم خاندانوں میں رسوماتِ کی پیروی عام ہوتی جا رہی ہے۔

حمیدہ نعیم اس کے لیے سماج کے اُس طبقے کو ذمہ دار ٹھیراتی ہیں جس کے پاس جائز و ناجائز طریقوں سے حاصل کیے گئے پیسے کی ریل پیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خاص طور پر ان لوگوں کو قصور وار سمجھتی ہیں جنہوں نے ناجائز طریقے اختیار کرکے دولت جمع کی اور پھر اسے اپنے بچوں اور بچیوں کی شادی بیاہ کے مواقع پر پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں ایسی رسومات اور رواج کے موجد بن گئے جن کی پہلے کشمیری مسلم معاشرے خاص طور پر دیہی آبادی میں کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔

دیکھا دیکھی بھی ایک وجہ

عبدالرشید نائیک کہتے ہیں کہ تاخیر سے شادیاں کرنے یا شادی کے لائق عمر کی حد پار کرنے کے باوجود شادی کرنے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے ایک مخصوص طبقے نے ایک طرح کا مسابقتی ماحول پیدا کر دیا ہے۔

اُن کے بقول ایک پیمانہ قائم کر دیا گیا ہے جس میں غیر مراعات یافتہ گھرانے بھی اپنے مالی طور پر خوش حال پڑوسیوں اور رشتے داروں سے لین دین کے معاملے میں برابری کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں یا اس انتظار میں اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنے سے رہ جاتے ہیں۔

کشمیری خواتین کی مشکلات

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 میں شورش کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئی ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد نے تشدد میں اپنی جانیں گنوا دیں۔ ہزاروں خواتین نے اپنے والدین کھو دیے یا ان کے خاوند یا بچے دیکھتے ہی دیکھتے ان کی نظروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئے۔

ایسی خواتین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جن کے خاوند یا بیٹے لاپتا ہو گئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کو آخری بار سیکیورٹی فورسز کی طرف سے حراست میں لیتے ہوئے دیکھا گیا۔

حکومت مسئلے سے غافل نہیں

جموں و کشمیر سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اس اہم سماجی مسئلے سے ہرگز غافل نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ حکومت کی طرف سے وضع کردہ ایک ایسی اسکیم پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد ایسی ہی لڑکیوں کی مالی معاونت کرنا ہے اور اس اسکیم کے اب تک ہزاروں لڑکیاں مستفید ہوچکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی اس ‘میریج اسسٹنس اسکیم’ کے تحت 2020 اور 2021 کے دوران 11 ہزار پانچ سو 68 معاملات کو منظور کیا گیا اور اہل لڑکیوں میں 45 کروڑ 98 لاکھ روپے تقسیم کیے گئے۔ جب کہ مزید ایسی چار ہزار نو سو 41 لڑکیوں کے لیے 19 کروڑ 58 لاکھ روپے کی خطیر رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔

محکمہ سوشل ویلفیئر کے عہدیداروں کے مطابق اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی سب سے زیادہ لڑکیوں کا تعلق وادی کشمیر کے جنوبی ضلع کلگام سے ہے۔ جو شورش کے نتیجے میں زیادہ متاثر ہونے وال اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔

اسکیم کے تحت خط غربت سے نیچے کے کسی بھی گھرانے سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سال سے اوپرکی عمر کی لڑکی کو شادی کے لیے 25 ہزار روپے نقد رقم اور پانچ گرام سونا معاونت کے طور پر دیا جاتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس اسکیم سے اب تک36 ہزار 378 لڑکیاں فائدہ اٹھا چکی ہے اور ان میں محکمہ سوشل ویلفیئر نے ایک ارب 44 کروڑ 30 لاکھ روپے مالی معاونت کے طور پر خرچ کیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG