رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں ایک بھی پرتشدد واقعہ نہیں ہوا، پولیس سربراہ


عید الاضحیٰ کے موقع پر جموں میں لوگ خریداری کر رہے ہیں

بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور وہ علاقہ ترقی کرے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ذہن میں اس دفعہ کو ہٹانے کے بعد کے نتائج کے بارے میں قطعاً کوئی ابہام نہیں تھا۔

تاہم بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پرتشدد واقعات اور احتجاج کی متضاد خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے رپورٹوں کے حوالے سے الزام عائد کیا ہے کہ وہاں تشدد ہو رہا ہے جبکہ پولیس انتظامیہ نے اس کی تردید کی ہے۔

پولیس انتظامیہ کے مطابق سری نگر کے بیشتر علاقوں میں عید الاضحیٰ کے موقع پر پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ شاہد چودھری نے کہا کہ 250 سے زائد اے ٹی ایم کام کر رہے ہیں، بینک کھلے ہوئے ہیں اور عید کے موقع پر لوگ اپنی تنخواہیں پیشگی وصول کر رہے ہیں۔

لیکن بعض رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو کم ہی مہلت مل رہی ہے اور انھیں عوام کی طرف سے خفگی اور سردمہری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہفتے کی شب میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے باہر آنے کے بعد کہا کہ ایسی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ کشمیر میں بہت غلط ہو رہا ہے، پرتشدد واقعات ہوئے ہیں اور لوگ مر رہے ہیں۔

ان کے مطابق حکومت اور وزیر اعظم کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں کیا ہو رہا ہے۔

سری نگر کے پولیس سربراہ دل باغ سنگھ نے راہل گاندھی کے الزام کی تردید کی اور کہا کہ سری نگر میں صورت حال پر امن ہے اور حالیہ دنوں میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔ البتہ پتھراؤ کے کچھ معمولی واقعات ہوئے جن پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا۔

حکومت کی طرف سے آئین کی دفعہ 370 کو ہٹانے کے خلاف مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک سینئر تجزیہ کار اُرملیش کے مطابق حکومت نے دفعہ 370 ہٹانے کی جو وجوہات بتائی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 1953 سے ہی کشمیر کی خود مختاری کو کمزور کیا جاتا رہا ہے اور اب دفعہ 370 کا جو ڈھانچہ بچا تھا بی جے پی حکومت نے اسے بھی ختم کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG