رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: پولیس سے جھڑپ میں 34 ماؤ نواز باغی ہلاک


بھارتی پولیس کے اہلکار ریاست چھتیس گڑھ کے ایک علاقے میں گشت کر رہے ہیں جہاں نکسل باغی سرگرم ہیں (فائل فوٹو)

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے فرار کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے کئی باغیوں کی لاشیں دریا سے نکال لی ہیں اور لاشیں ملنے کا سلسلہ منگل کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔

بھارت کی وسطی ریاست مہاراشٹرا میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 34 ماؤ نواز باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق پولیس نے گڈ چیرولی نامی ضلعے میں واقع ایک جنگل میں اتوار کو نکسل باغیوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ مذکورہ علاقہ مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ کی سرحد پر واقع ہے۔

حکام کے مطابق چار گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران 16 باغی مارے گئے تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی فائرنگ سے کئی باغی زخمی بھی ہوئے تھے جو نزدیک بہنے والے دریائے اندراوتی کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے فرار کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے کئی باغیوں کی لاشیں دریا سے نکال لی ہیں اور لاشیں ملنے کا سلسلہ منگل کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔

پیر کی شام اسی علاقے میں کی جانے والی پولیس کی ایک اور چھاپہ مار کارروائی میں چار خواتین سمیت مزید چھ باغی مارے گئے ہیں۔

مہاراشٹرا پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ستیش متھر نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ اب تک مارے جانے والے باغیوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے لیکن اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

گڈ چیرولی پولیس کے ترجمان پرشانت دیواتے نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ امدادی اہلکار تاحال علاقے میں موجود ہیں اور دریا سے لاشیں نکال رہے ہیں۔

کمیونسٹ نظریات کےحامل مائو نواز باغی - جنہیں مقامی افراد نکسل باڑی یا نکسلائٹ بھی کہتے ہیں - بھارت کی 20 سے زائد مشرقی اور وسطی ریاستوں میں سرگرم ہیں اور ان کے زیرِ اثر بیشتر علاقوں کا شمار بھارت کے پسماندہ ترین حصوں میں ہوتا ہے۔

نکسل باڑیوں کی اکثریت بھارت کے غریب ترین طبقات پر مشتمل ہے جن کا موقف ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے غریب کسانوں کی زمینیں اور معدنی وسائل ہتھیانے کے خلاف اور قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

بھارت میں نکسل باڑیوں کی یہ تحریک 1960ءکی دہائی سے جاری ہے جس کے دوران اب تک ہزاروں عام شہری اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ماؤ نواز باغی جنگجووں کی کل تعداد سات ہزار کے لگ بھگ ہے اور وہ بھارت کے کل 630 میں سے ایک تہائی اضلاع میں سرگرم ہیں۔

بھارتی حکومت مائو باغیوں کو اپنی سلامتی کو لاحق سب سے بڑا داخلی خطرہ قرار دیتی ہے اور حکام باغیوں کا زور توڑنے کے لیے پولیس کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ان کے زیرِاثر علاقوں میں غربت اور پسماندگی دور کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG