رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا: 26 ہزار والدین کا بچوں کی پولیو ویکسینیشن کرانے سے انکار


فائل فوٹو

حکام نے تصدیق کی ہے کہ پولیو ویکسین سے محروم رہنے والوں میں 26 ہزار سے زائد ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین نے ان کو قطرے پلوانے سے انکار کیا۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو کی حالیہ مہم کے دوران صوبے میں پانچ سال سے کم عمر کے 44 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے ہیں لیکن اب بھی صوبے میں 34 ہزار سے زائد بچے پولیو ویکسینیشن سے محروم ہیں۔

انسدادِ پولیو مہم کے صوبائی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق رواں مہینے صوبے کے مخصوص اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 44 لاکھ 66 ہزار بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جانے تھے جن میں سے 44 لاکھ 32 ہزار بچوں تک رضاکاروں کی رسائی ممکن ہوسکی۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ پولیو ویکسین سے محروم رہنے والوں میں 26 ہزار سے زائد ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین نے انہیں قطرے پلوانے سے انکار کیا۔

ان والدین کی اکثریت کا تعلق صوبائی دارالحکومت پشاور سے ہے جن کی تعداد حکام کے مطابق 13498 ہے۔

پشاور کے علاوہ چارسدہ میں لگ بھگ تین ہزار والدین نے بچوں کو پولیو کے مرض سے بچائو کے قطرے پلوانے سے انکار کیا۔

جنوبی ضلع بنوں میں 1834 اور وزیرِ اعلٰی پرویز خٹک کے آبائی ضلع نوشہرہ میں تقریباً ایک ہزار والدین نے بھی اپنے بچوں کی ویکسینیشن سے انکار کیا۔

انسدادِ پولیو مہم کے صوبائی سربراہ عاطف الرحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے والدین کے ساتھ مقامی انتظامیہ، منتخب بلدیاتی نمائندوں اور محکمۂ صحت کے حکام کے رابطے جاری ہیں اور توقع ہے کہ ان بچوں کو بھی جلد قطرے پلا دیے جائیں گے۔

انہوں نے انکاری والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے معصوم بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلائیں۔

عاطف الرحمٰن کے بقول صوبے میں انسدادِ پولیو مہم کی صورتِ حال ماضی کی نسبت خاصی تسلی بخش ہے اور حالیہ مہم کے دوران 99 فی صد سے بھی زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مہینے چلائی جانے والی مہم کے دوران رہ جانے والے بقیہ ایک فی صد سے بھی کم بچوں تک رسائی اور ان کے والدین کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

عاطف الرحمٰن نے بتایا کہ پشاور میں پولیو کا آخری کیس فروری 2016ء میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد دو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب یہاں حالات قابو میں ہیں۔

پشاور کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کسی اور علاقے سے بھی اس سال پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ تاہم رواں سال کے دوران اب تک رپورٹ ہونے والا ملک بھر کا واحد پولیو کیس بلوچستان کے ضلع ڈھکی میں سامنے آیا ہے۔

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں اب بھی انسانی جسم کو اپاہج بنانے والا پولیو وائرس موجود ہے جس کے خاتمے کے لیے عالمی ادارۂ صحت اور اقوامِ متحدہ کے دیگر ذیلی اداروں کے تعاون سے کوششیں کی جارہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG