رسائی کے لنکس

logo-print

اختلاف رائے بجا، مگر شائستگی کے دائرے میں


سیاسی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر تندو تیز جملے، اگلے پچھلے حساب کتاب، سب کا سب بے قابو ہو کر اپنی حدوں کو چھوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کہتے ہیں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پاکستانی سیاست میں یہ ’حسن ‘پوری آب و تاب پر آچکا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے ایک دوسرے پر تندو تیز جملے، اگلے پچھلے حساب کتاب، سب کا سب بے قابو ہو کر اپنی حدوں کو چھوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے روزانہ کی جانے والی تقریریں اور بیانات ایک دوسرے پر سخت ترین تنقید اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا ثابت کرتا ہے کہ اختلافات کتنے شدید نوعیت کے ہیں۔ غیر جانب دار سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی رائے ہے کہ تنقید برائے تعمیر ہونی چاہیئے لیکن یہاں صرف تنقید برائے نتقید ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی نظر میں پیپلز پارٹی ان کی سب سے بڑی حریف جماعت ہے اس لئے نواز لیگ کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سیاسی پینترے اختیار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف انہیں صدر زرداری کسی طور قبول نہیں لہذا وہ ہر جلسے، جلوس میں انہیں آڑے ہاتھوں لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

ان کی جانب سے صدر زرداری پر زبردست تنقید سن کر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی چپ نہ رہ سکے اور اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بول اٹھے کہ صدر کی تضحیک بند نہ کی گئی تو پیپلز پارٹی کے پاس بھی مسلم لیگ ن کے خلاف بہت مواد ہے۔

اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی نظر میں پی پی پی اور مسلم لیگ دونوں ہی ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ عمران نے اپنے سیاسی حریف نواز شریف کو انتخابات سے پہلے ہی اپنے تئیں ہارا ہوا مان لیا ہے اسی لئے منگل کو انہوں نے اوکاڑہ میں جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ اگر وہ مقابلہ نہیں کرسکتے تو مناظرہ ہی کرلیں۔

ملک میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ انتخابی ایجنڈا بھی بنا ہوا ہے لہذا عمران خان دعویٰ کر رہے ہیں کہ اقتدار میں آگئے تو ڈھائی سال میں بجلی کا بحران ختم کردیں گے جبکہ مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ پی پی نے لوڈ شیڈنگ کرکے سب سے زیادہ پنجاب کو تنگ کیا ہے کیوں کہ یہاں ان کی حکومت نہیں تھی۔

پی پی کی جانب سے لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو ہی ٹھہرایا جارہا ہے اور اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے پی پی نے اخبارات میں باقاعدہ ن لیگ کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے اور اس مہم پر اب تک کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

آل پاکستان مسلم لیگ یعنی سابق صدر مشرف کی پارٹی باقی پارٹیوں کی زبانی جمع خرچ سے دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوئے آپس میں گتھم گتھا ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی کچہری چوک راولپنڈی میں پیشی کے موقع پر پرویز مشرف کے حامی اور مخالفین گتھم گتھا ہو گئے۔ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
XS
SM
MD
LG