رسائی کے لنکس

پاکستان میں 243 نشستوں کے انتخابی نتائج؛ آزاد اُمیدوار 96، مسلم لیگ (ن) 70 اور پاکستان پیپلز پارٹی کی 53 نشستیں

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے غیر حتمی عبوری نتائج جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کے نتائج میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد اُمیدوار آگے ہیں۔

06:23 10.2.2024

عمران خان کی اے آئی ویڈیو :" فتح کا جشن مناؤ"

عمران خان کی پاکستان کی تحریک انصاف پارٹی، ( پی ٹی آئی ) نے آرٹیفشل انٹیلی جینس کے استعمال سے ایک ویڈیوپیغام ریلیز کیا ہے اور اسے ان کے ایکس سوشل میڈیا پر شئیر کیا ہے ۔

اس پیغام میں انہوں نے نواز شریف کی جانب سے فتح کے دعوے کو مسترد کر کے اپنے حامیوں کو انتخاب جیتنے پر مبارک باد دی اور ان پر زور دیا کہ وہ جشن منائیں اور اپنے ووٹ کی حفاظت کریں۔

پیغام میں انہوں نے کہا کہ ، “مجھے اعتماد تھا کہ آپ سب ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے ۔ اور آپ نے میرے اعتماد کا مان رکھا اور آپ کی بڑی تعداد میں ٹرن آؤٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا ہے۔ “

پیغام میں مزید کہا گیا کہ شریف کے دعوے کو کوئی بھی قبول نہیں کرے گا کیوں کہ انہوں نے کم سیٹیں جیتی ہیں اور کیوں کہ پولنگ میں دھاندلی ہوئی ہے ۔

03:38 10.2.2024

ہمارا مینڈیٹ واپس مل گیا ہے، کراچی کا قومی وقار بحال کریں گے، ڈاکٹر فاروق ستار

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی نمایاں کامیابی پر اپنے تمام کارکنوں اور ساتھیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا 2018 میں چھنیا گیا مینڈیٹ آج ہمیں واپس مل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ متحرک اور منظم ایم کیوایم کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔اس آزمائش کے ختم ہونے کے بعد ہمیں ایک اور بڑی آزمائش کا سامنا ہے اور وہ ہے کراچی کا قومی وقار بحال کرنا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تشدد کا جواب بیلٹ پیپر سے دیا ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کا مینڈیٹ ہمارا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کا حق کراچی کے عوام اور ایم کیو ایم کے ووٹر کا ہے کہ وہ اس شہر کو کیسے چلائیں گے۔

ایم کیوایم کے ایک اور رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نےاپنی پارٹی کی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اتوار کو یوم تشکر منائیں گے۔

انہوں نے آزاد امیدواروں کو ایم کیو ایم میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

03:25 10.2.2024

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کا پاکستان میں انتخابات کی شفافیت میں کمی پر تشویش کا اظہار

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نےپاکستان میں انتخابات کے دوران شفافیت سے متعلق شکایات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوری آزادیوں ، انصاف اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کریں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ہمارے لوگوں کے مضبوط باہمی روابط کی بنیاد پر قریبی اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ ہم کل کے انتخابات میں ووٹ کے ذریعے حق رائے دہی استعمال کرنے والے تمام لوگوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔


لیکن ہم انتخابات کی شفافیت میں کمی سے متعلق پیدا ہونے والے سنگین خدشات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ تمام جماعتوں کو با ضابطہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور یہ کہ کچھ سیاسی رہنماؤں کو شرکت سے روکنے اور ان سے منسوب انتخابی نشانات کے استعمال کو روکنے کے لیے قانونی طریقہ کار کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ ہمیں پولنگ کے دن انٹرنیٹ کی بندش، نتائج جاری کرنے میں نمایاں تاخیر اور ووٹوں کی گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کے دعوؤں پر بھی تشویش ہے۔


انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستانی حکام پر بنیادی انسانی حقوق بشمول معلومات تک آزادانہ رسائی اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لئے زور دیتا ہے۔ اس میں منصفانہ قانونی کاروائی کا حق، مناسب عمل کی پابندی اور مداخلت سے پاک آزاد اور شفاف عدالتی نظام شامل ہیں۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے اہم اصلاحات کے مینڈیٹ کے ساتھ عوامی حکومت کا منتخب ہونا ضروری ہے۔ نئی حکومت کو اپنی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے تمام شہریوں اور برادریوں کے لیے مساوی مفادات اور انصاف کے ساتھ نمائندگی کرنی چاہئے۔ ہم اس کے حصول اور اپنے مشترکہ مفادات کے دائرے میں پاکستان کی آنے والی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔

02:33 10.2.2024

بلوچستان میں پرواسٹیبلشمنٹ جماعتوں اور امیدواروں کو شکست

بلوچستان میں بھی عام انتخابات کے بعد سرکاری اور غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابی نتائج سے لگتا ہے کہ صوبے میں اس بار پرو اسٹیبلشمنٹ جماعتوں اور امیدواروں کو عوام نے مسترد کیا ہے جب کہ صوبے کی قوم پرست جماعتوں کے قائدین اپنی نشستیں بچانے میں تو کامیاب رہے مگر ان کی جماعتوں کے دیگر امیدواروں کو کامیابی نہ مل سکی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ انتخابات میں قومی سطح کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار، مذہبی جماعتوں میں جمعیت علماء اسلام ف، جمعیت علماء اسلام نون، جماعت اسلامی، مجلس وحدت المسلمین اور تحریک لبیک جب کہ قوم پرست جماعتوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت پرو اسٹیبلشمنٹ امیدواروں نے حصہ لیا ہے۔

پولنگ کے بعد گزشتہ شب سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے انتخابی نتائج کے اعلان کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اب تک کے سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں میں سے 41 حلقوں کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔

مزید تفصیلات

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG