رسائی کے لنکس

logo-print

ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی ملاقات، متعدد امور پر تبادلہ خیال


صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان جاپان کے شہر اوساکا میں ملاقات۔ دونوں رہنما جی 20 سربراہ کانفرنس میں شریک کے لیے آئے ہیں۔ 28 جون 2019

وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کے روز جاپان کے شہر اوساکا میں ملاقات اور بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے متعدد امور اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد مودی کی ٹرمپ سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

گروپ 20 سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات میں تجارت، دفاع، فائیو جی کمیونی کیشن نیٹ ورک، ایران اور دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

ٹرمپ نے انتخابات میں شاندار کامیابی پر مودی کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ دونوں ملک دفاعی تعاون سمیت دیگر متعدد شعبوں میں مل کر کام کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم عظیم دوست بن گئے ہیں اور دونوں ملک اس سے قبل اتنے قریب کبھی نہیں ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے ایران کے مسئلے پر کہا کہ ہمارے پاس کافی وقت ہے۔ کوئی عجلت نہیں ہے، اس سلسلے میں کوئی دباؤ نہیں ہے۔

بھارت کے سکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے ایران کے تعلق سے گفتگو میں بھارت کی توانائی کی ضرورتوں کو اجاگر کیا اور خطے میں امن و استحکام کے سلسلے میں اپنی فکرمندی ظاہر کی۔

ان کے بقول مودی نے کہا کہ اگرچہ ایران بھارت کی گیارہ فیصد توانائی کی ضرورتیں پوری کرتا ہے تاہم بھارت نے ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کر دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ قیمتیں مستحکم رہیں گی۔

گوکھلے کے مطابق امریکی صدر نے اس پر روشنی ڈالی کہ امریکہ خطے میں قیام امن اور تیل کی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ملک اس پر متفق ہیں کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے سلسلے میں ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے۔

بھارت کی جانب سے روس سے S-400 دفاعی نظام خریدنے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ البتہ دونوں نے باہمی فوجی تعاون بڑھانے پر غور و خوض کیا۔

وجے گوکھلے نے ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیا اور کہا کہ بات چیت گرم جوشی کے ماحول میں ہوئی۔

اس ملاقات پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے امریکی مصنوعات پر بھارت کی جانب سے ٹیکس عائد کیے جانے پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اسے واپس لینا ہو گا۔

ایک تجزیہ کار آلوک موہن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول یہ ضروری نہیں کہ بیانات میں جو باتیں کہی جائیں وہی باہمی مذاکرات میں بھی ابھر کر آئیں۔ امریکہ بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات درست ہے کہ دونوں ملکوں میں تجارتی جنگ چل رہی ہے لیکن اس کا اثر باہمی رشتوں پر نہیں پڑے گا۔

نریندر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر مون جائی اِن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بن عبد العزیز سے بھی ملاقات اور بات چیت کی

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG