رسائی کے لنکس

روہنگیا مسلمانوں سے ان کی تکالیف پر معذرت چاہتا ہوں: پوپ فرانسس


پوپ ایک روہنگیا مسلمان پناہ گزین بچی سے بات کر رہے ہیں

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے ایذا رسانیوں کا شکار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں سے معذرت کی ہے۔

جمعہ کو بنگلہ دیش میں پوپ نے اس برادری کے لوگوں سے ملاقات کی اور سیاسی طور پر حساس سمجھی جانے والی اصطلاح "روہنگیا" کا پہلی بار استعمال کیا۔ قبل ازیں اپنے دورے کے آغاز پر میانمار میں انھوں نے یہ اصطلاح استعمال نہیں کی تھی جس پر انھیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

کاکس بازار کے کیمپوں سے پوپ سے ملاقات کے لیے ڈھاکا لائے گئے ان پناہ گزینوں کے ایک گروپ سے پوپ فرانسس نے خطاب کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

پوپ فرانسس نے پناہ گزینوں کے گروپ کے افراد کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے اور ان کی روداد بھی سنی۔ اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔

انھوں نے روہنگیا مسلمانوں سے کہا کہ وہ اس برادری پر ظلم ڈھانے والوں کی طرف سے ان سے معذرت چاہتے ہیں۔

"ان سب کی طرف سے جنہوں نے آپ کو تکالیف پہنچائیں، ان سب کی طرف سے جنہوں نے آپ کو نقصان پہنچایا میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں، معذرت۔"

ڈھاکا میں مسیحیوں، ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں اور دیگر مسالک کے لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ روہنگیا کے حقوق کو تسلیم کیے جانے کی کوششوں میں معاونت کرتے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش آمد سے قبل مسیحیوں کے روحانی پیشوا نے پڑوسی ملک میانمار میں چار دن تک قیام کیا تھا اور اس دوران روہنگیا برادری سے متعلق اس اصطلاح کو استعمال نہ کرنے پر انسانی حقوق ے کارکنوں کی طرف سے پوپ فرانسس پر تنقید کی گئی تھی۔

روہنگیا میانمار سے تعلق رکھنے والی ایک اقلیتی نسلی برادری ہے اور حالیہ برسوں میں اس پر بدھ مت کے ماننے والوں کی طرف سے روا رکھے جانے والے سلوک اور خاص طور پر رواں سال سکیورٹی فورسز کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کے باعث لاکھوں روہنگیا مسلمان پڑوسی بنگلہ دیش منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG