رسائی کے لنکس

logo-print

روس میں چھ ملکی کانفرنس میں بھارت و پاکستان کو شرکت کی دعوت


پاکستان اور بھارت کے پرچم

روس کی میزبانی میں رواں ماہ ہونے والی ماسکو کانفرنس کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ بھارت اور پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بات کریں گے۔

روس میں افغانستان میں امن و مصالحت کے بارے میں ایک چھ ملکی کانفرنس رواں ماہ ہونے جا رہی ہے جس میں بھارت اور پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کو ماسکو میں افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دیگر ملکوں میں روس، چین افغانستان اور ایران بھی شامل ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں جن ملکوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر ملکوں نے اس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔

روس کی میزبانی میں رواں ماہ ہونے والی ماسکو کانفرنس کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ بھارت اور پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بات کریں گے۔

اگرچہ دونوں ملک افغانستان سے متعلق ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا حصہ ہیں تاہم یہ پہلی بار ہوگا کہ بھارت اور پاکستان افغانستان امن عمل کے بارے میں روس میں بات کریں گے۔

پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں بھارت کے کردار کی اس بنا پر مخالفت کرتا رہا ہے کہ بھارت کے خفیہ ادارے پاکستان میں مبینہ طور پر ہونے والی عسکری کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کے لیے افغان طالبان عسکریت پسندوں کو استعمال کرتا ہے۔ دونوں ملک ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

اس تناظر میں مبصرین بھارت اور پاکستان کی طرف سے افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے ہونے والی کانفرنس میں براہ راست شرکت کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

افغان امور کے ماہر اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اگر افغانستان میں پاکستان اور بھارت اور یہ چاروں ممالک اور بعد میں امریکہ بھی (افغانستان میں) امن قائم کرنے لیے تعاون کرنے لیے ایک مثبت کردار ادا کرتے ہیں تو اس سے ممکن ہے کہ جو افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مقابلے کی فضا ہے اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔"

انھوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کی کئی وجوہات ہیں تاہم ان کے بقول اس میں ایک وجہ افغانستان بھی ہے۔

"پاکستان اور بھارت کے تعلقات افغانستان کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں اگرچہ ان میں اور بھی وجوہات ہیں ان میں کشمیر کا مسئلہ بھی ہے دہشت گردی کا مسئلہ بھی لیکن کم ازکم ایک رکاوٹ جو افغانستان کے حوالے سے ہے وہ دور ہو سکتی ہے۔"

XS
SM
MD
LG