رسائی کے لنکس

logo-print

افغان مہاجرین کو آئندہ دو سالوں میں وطن واپس لائیں گے: صدر غنی


افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان میں مقیم افغان پناگزینوں کو آئندہ دو سالوں میں ملک واپس لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ان الزامات کا خاتمہ ہو جائے گا کہ یہ مہاجرین خطے میں عدم استحکام کی ایک وجہ ہیں۔

افغان صدر نے اس عزم کا اظہار ایک ایسے وقت کیا ہے جب دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جس کی وجہ یہ الزامات ہیں کہ پاکستانی فوج طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو مبینہ طور پر مدد فراہم کرتی ہے جو افغانستان میں مقامی اور ان فورسز پر حملے کرتے ہیں جن کی قیادت امریکہ کرتا ہے۔

پاکستان میں لگ بھگ 27 لاکھ افغان پناہ گزین مقیم ہیں جن میں نصف سے زائد بغیر کسی اندراج کے ہیں۔ پاکستان ان مہاجرین کی جلد ان کے وطن واپسی کی ضرورت پر زور دیتا آرہا ہے کیونکہ اس کا موقف ہے کہ ان کی موجودگی سے "افغان دہشت گردوں کو ان میں گھل مل جانے میں مدد ملتی ہے۔"

صدر غنی نے ہفتہ کو ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ " آئندہ 24 ماہ کے دوران میری ترجیح اور مقصد پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کو ملک واپس لانا ہے۔"

غنی نے زور دے کر کہا کہ "ہم انہیں (پاکستان کو ) یہ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہتے کہ مہاجرین یہ کچھ کر رہے ہیں۔ (ہم جانتے ہیں کہ ) مہاجرین معصوم ہیں۔ آئیں انہیں واپس لانے کا عزم کریں تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔"

انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ ایران مین مقیم افغان پناہ گزینوں کو ملک واپس لانے کی کوشش کریں گے۔

غنی نے یہ بات کابل میں صدارتی محل میں ہونے والے ایک اجتماع کے موقع پر کہی جو افغانستان میں سویت یونین کے قبضہ کے خاتمے کی یاد منانے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

افغانستان پر سویت یونین کا قبضہ ہونے کے بعد لاکھوں افغان شہریوں کو پاکستان اور ایران میں پناہ لینا پڑی تھی۔

دوسری طرف مبصرین غنی کے اعلان کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ جب 2014ء میں انھیں اقتدار ملا تو اس وقت بھی انھوں نے افغان مہاجرین کی واپسی کا ایک پروگرم شروع کیا تھا۔

بین الاقوامی امدادی اداروں اور مہاجرین کے مطابق روزگار کے مواقع کی کمی، صحت و تعلیم کی بینادی سہولتوں کا فقدان اور متعلقہ افغان وزارت میں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں کے خاندانوں کے واپس آنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی۔

ان کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ وہ افغان شہری جو واپس آئے تھے وہ یا تو دوبارہ پاکستان واپس چلے گئے یا انہوں نے دیگر ملکوں میں جانے کی کوشش کی۔

ہفتے کو اپنے خطاب میں صدر غنی نے کہا کہ کابل 28 فروری کو ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جہاں وہ تشدد کے خاتمے کے لیے طالبان کے ساتھ امن کے لیے مجوزہ منصوبہ پیش کرے گا۔

لیکن جب وہ یہ کہہ رہے تھے ملک کے مغربی صوبے فرح اور جنوبی صوبے زابل میں میں ہونے والے باغیوں کے الگ الگ حملوں میں افغان فورسز کے 13 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG