رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کا انتخاب 20 جولائی کو ہو گا


افغانستان میں صدارتی انتخاب کیلئے کلیدی اُمیدوار صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ۔ فائل فوٹو

افغانستان کے قومی الیکشن کمشن نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے صدر کا انتخاب 20 جولائی کو ہو گا۔ کمشن کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب ملتوی کرنے سے انتظامیہ کو ووٹنگ کی مکمل تیاری کرنے کا موقع مل جائے گا۔

یہ انتخاب اس سے قبل 20 اپریل کو ہونا تھا۔ تاہم الیکشن کمشن کے چیئرمین گلاجان عبدالباری سایت کا کہنا ہے کہ انتخاب کے انعقاد سے متعلق رونما ہونے والے مسائل کے باعث انہیں مؤخر کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

اُنہوں نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ اپریل میں شدید سردی ہو گی اور اس موسم میں انتخابی سازوسامان کی پولنگ سٹیشنوں کیلئے ترسیل، سیکورٹی کی فراہمی اور بجٹ سے متعلق شدید مشکلات پیش آنے کا خدشہ تھا۔ لہذا انتخاب کی بہتر تیاری کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے اپریل کے بجائے 20 جولائی کو منعقد کیا جائے۔

یہ اعلان گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی اور بد انتظامی کے شدید الزامات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے دوران بم دھماکوں کے علاوہ بائیو میٹرک مشینوں کے ذریعے ووٹروں کی تصدیق میں خرابیوں، نامکمل ووٹر فہرستوں اور پولنگ سینٹرز میں ووٹنگ کیلئے غیر معمولی تاخیر کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب کی تاریخ کے تعین میں افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائیندے زلمے خلیل زاد کی طالبان کے نمائیندوں سے ہونے والی حالیہ بات چیت کے باعث بھی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ اس بات چیت کا مقصد افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور بحالی امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے اس سے قبل اصرار کیا تھا کہ صدارتی انتخاب طے شدہ وقت پر اپریل میں ہی منعقد ہو گا۔ تاہم صدارتی ترجمان شاہ حسین مرتضاوی کا کہنا ہے کہ حکومت الیکشن کمشن کے نئے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔

اس انتخاب میں موجودہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کلیدی اُمیدوار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG