رسائی کے لنکس

بھارت: میانمار کے سفارت خانے کے باہر بڑا مظاہرہ

  • سہیل انجم

بھارت کے جونیئر وزیرِ داخلہ کرن رجیجو نے ان کوششوں کی مذمت کی ہے جن کا مقصد ان کے بقول روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر بھارت کو "وِلن" بنا کر پیش کرنا اور اسے بدنام کرنا ہے۔

بھارت کے تقریباً دو درجن گروپوں اور تنظیموں نے بدھ کو روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر نئی دہلی میں واقعے میانمار سفارت خانے کے باہر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے کا اہتمام متعدد سول سوسائٹی گروپس اور جماعت اسلامی، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، جمعیت اہلحدیث ہند اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا جیسی مذہبی اور سماجی تنظیموں نے کیا تھا جس میں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا اور میانمار حکومت کے رویے کی مذمت کی۔

انھوں نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سکیورٹی فورسز اور بودھ شدت پسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ بند کرائے۔

مظاہرین نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں آباد 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو پناہ گزین کا درجہ دے۔

انھوں نے ان پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر نوید حامد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزار برسوں سے بھارت کی یہ روایت رہی ہے کہ جو بھی یہاں آیا اسے پناہ دی گئی۔ لیکن ان کے بقول موجودہ مرکزی حکومت اس معاملے کو ہندو مسلم نظر سے دیکھ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کی سرزمین پر آریوں سے لے کر تملوں تک سب کو گلے لگایا گیا۔ لیکن یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ مذہب کے نام پر پناہ گزینوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

نوید حامد نے الزام لگایا کہ بھارت حکومت ایسا جان بوجھ کر کر رہی ہے تاکہ 2019ء میں جو انتخابات ہونے جا رہے ہیں ان میں اس کی فصل کاٹی جا سکے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ جو مسلمان ہے، وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

مظاہرے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی اور دہلی کی دیگر یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبا نے بھی بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

دریں اثنا اپنی روہنگیا پالیسی کے سبب عالمی سطح پر مذمت اور تنقید کا ہدف بننے والی بھارتی حکومت کے اعلٰی عہدے داروں نے وزیر اعظم کے دفتر میں ایک اجلاس میں میانمار کی صورت حال اور اس سے متعلق بھارتی پالیسی کا جائزہ لیا۔

اجلاس کے شرکا میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، وزیر اعظم کے اعلٰی معاون نرپیندر مشرا اور انٹیلی جنس ادارے 'را' کے سربراہ بھی شامل تھے۔

اجلاس میں بھارتی اداروں کی ان مبینہ خفیہ رپورٹوں پر غور کیا گیا جن کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی مزاحمتی تنظیم کے کمانڈروں اور لشکر طیبہ جیسے گروپوں میں باہم رابطے موجود ہیں۔

دریں اثنا بھارت کے جونیئر وزیرِ داخلہ کرن رجیجو نے ان کوششوں کی مذمت کی ہے جن کا مقصد ان کے بقول روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر بھارت کو "وِلن" بنا کر پیش کرنا اور اسے بدنام کرنا ہے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ زید رعد الحسین نے روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کے بھارت کے اعلان پر اس کی مذمت کی تھی۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ روہنگیا مسلمان ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

دوسری طرف بھارت کی حکومت نے چکما اور ہاجونگ قبائل کے ان پناہ گزینوں کو جو 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے وقت اس وقت کے مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے بھارت آئے تھے، جلد ہی شہریت تفویض کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سابق مشرقی پاکستان سے بھارت آنے والے یہ پناہ گزین ہندو ہیں اور بھارت کی ریاست اروناچل پردیش میں قیام پذیر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG