رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہرے

  • یوسف جمیل

سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان کے جنازے میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے ایک نوجوان توصیف بری طرح زخمی ہوگیا تھا جسے قریبی اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوجوان کے پیٹ اور سر میں کئی چھرے لگے تھے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین پر سکیورٹی کی طرف سے کی گئی پیلٹ فائرنگ میں ایک 22 سالہ نوجوان توصیف احمد وانی ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کو وادی کے دارالحکومت سرینگر سے تقریباً 30 کلو میٹر جنوب میں واقع کاکہ پورہ علاقے میں پیش آیا جہاں اس سے پہلے بھارتی فوج کے ساتھ چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی ایک جھڑپ میں مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ سے وابستہ تین مقامی عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

جھڑپ بُدھ کی رات اُس وقت شروع ہوئی تھی جب بھارتی فوج نے مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کی وفاقی پولیس فورس 'سی آر پی ایف' کے ساتھ مل کر کاکہ پورہ کی ایک بستی کے ایک گھر میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔

طرفین کے درمیان چھ گھنٹے تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس میں فوج کا ایک میجر زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں سکیورٹی اہلکاروں نے مکان کو بارود سے اُڑادیا۔

ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی شناخت شیراز احمد بٹ، مجید اور شارق احمد کے طور پر کی گئی ہے جو حکام کے مطابق لشکرِ طیہ سے تعلق رکھتے تھے۔

سرینگر میں پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف کیا گیا یہ دوسرا "کامیاب آپریشن" تھا۔

اس سے قبل بُدھ کی صبح شمال مغربی شہر سوپور کے مضافات میں حزب المجاہدین نامی مقامی عسکری تنظیم کے دو جنگجو مارے گئے تھے۔

اس مکان کامنظر جہاں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی جسے بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا
اس مکان کامنظر جہاں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی جسے بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا

ہلاک ہونے والے جنگجووں میں تنظیم کا ایک ضلعی کمانڈر بھی شامل تھا۔

جمعرات کو لشکرِ طیبہ کے تین عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ساتھ ہی کاکہ پورہ اور ضلع پلوامہ کے کئی دوسرے علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔

کئی مقامات پر مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں انہوں نے مظاہرین پر اشک آور گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن استعمال کیے۔

پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے ایک نوجوان توصیف بری طرح زخمی ہوگیا تھا جسے قریبی اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوجوان کے پیٹ اور سر میں کئی چھرے لگے تھے۔

ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے کاکہ پورہ، پلوامہ، اونتی پورہ اور بعض دوسرے قصبہ جات میں کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرنے کے حکم باوجود نوجوان کی ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہروں کا دائرہ پلوامہ کے کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے۔

جنوبی کشمیر میں بُدھ کی رات ہی انٹرنیٹ سروسز بھی بند کردی گئی تھیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شرپسند عناصر کاکہ پورہ میں ہونے والی جھڑپ کے پس منظر میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔

ریل سروسز اور پلوامہ کے تعلیمی ادارے بھی حفظِ ماتقدم کے طور پر بند کردیے گئے ہیں جبکہ پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں سرینگر-جموں شاہراہ جو وادئ کشمیر اور بھارت کے درمیان واحد زمینی راستہ ہے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

دریں اثنا ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تدفین میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ عینی شاہدین کے مطابق سوگواروں کے اژدھام کے پیشِ نظر ہلاک عسکریت پسندوں نمازِ جنازہ ایک سے زائد بار ادا کی گئی۔

اس موقعے پر لوگوں نے بھارت سے آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی بھی کی۔

اس سے قبل 16 جون کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں سکیورٹی دستوں کے ساتھ ایک مقابلے میں لشکرِ طیبہ کا ایک اہم کمانڈر جُنید متو اور اُس کا ایک قریبی ساتھی ہلاک ہوگئے تھے۔ متو کے سر پر دس لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا اور اس کی ہلاکت کو حکام نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔

لیکن اُسی شام اننت ناگ کے اچھہ ول علاقے میں عسکریت پسندوں نے گھات لگاکر کیے جانے والے ایک حملے میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر فیروز احمد ڈار سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا۔ پولیس نے اس حملے کو عسکریت پسندوں کی انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG