رسائی کے لنکس

logo-print

پلٹزر پرائز کا اعلان، تین کشمیری صحافی بھی فاتحین میں شامل


فائل فوٹو

صحافت کے سب سے بڑے ایوارڈ 'پُلٹزر پرائز' نے سال 2020 میں ایوارڈ جیتنے والے صحافیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔

سال 2020 کے 'پُلٹزر پرائز' جیتنے والوں میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے تین صحافی بھی شامل ہیں۔

'پُلٹزر پرائز' کی انتظامیہ نے پیر کو 15 صحافتی اداروں اور صحافیوں سمیت کتب، ڈرامہ اور میوزک کیٹیگریز کے لیے بھی ایوارڈ جیتنے والوں کا اعلان کیا ہے۔

پُلٹزر پرائز صحافت کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے جو مختلف کیٹیگریز میں بہترین کارکردگی دکھانے والے صحافیوں کو دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کی ابتدا 1917 میں ہوئی تھی جو ایک امریکی اخبار کے پبلشر اور صحافی جوزف پُلٹزر سے منسوب ہے۔

ایوارڈ کا انتظام امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کرتی ہے۔ لیکن پُلٹزر پرائز جیتنے والوں کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں جو مختلف صحافیوں کے کام کا جائزہ لینے کے بعد جیتنے والے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ہر کیٹیگری کے لیے الگ کمیٹی بنائی جاتی ہے۔

رواں سال کے 'پُلٹزر پرائز' کو کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ جب 1917 میں پہلا پُلٹزر پرائز دیا گیا تھا تو اس کے چند ماہ بعد ہی 'اسپینش فلو' کی وبا پھیلی تھی جس میں دنیا بھر میں لگ بھگ پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اب جب کہ پُلٹزر پرائز کے 100 سال بھی مکمل ہو چکے ہیں تو دنیا ایک اور عالمی وبا کی لپیٹ میں ہے۔ اس وبا کی وجہ سے رواں برس ایوارڈز کے اعلان میں کئی ہفتوں کی تاخیر بھی ہوئی ہے۔

اس مرتبہ بھی پُلٹزر پرائز جیتنے والوں میں کئی معروف صحافتی ادارے اور صحافی شامل ہیں۔

بریکنگ نیوز رپورٹنگ کا ایوارڈ امریکی ریاست کینٹکی کے ایک نامور اخبار 'دی کوریئر جرنل' کے نام رہا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹنگ کا پُلٹزر امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے ایک صحافی برائن ایم روزینتھل کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے نیویارک میں ٹیکسی انڈسٹری سے متعلق ایک اسکینڈل بے نقاب کیا تھا جس کے بعد وفاقی اور ریاستی حکومت نے تحقیقات کیں اور نظام میں اصلاحات متعارف کرائی تھیں۔

ایک اور معروف امریکی روزنامے 'واشنگٹن پوسٹ' کے اسٹاف کو ایک سائنسی سیریز پر 'ایکسپلے نیٹری (وضاحتی) رپورٹنگ' کے لیے پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس سیریز میں زمین پر انتہائی درجۂ حرارت کی صورت میں رونما ہونے والے اثرات کو واضح کیا گیا تھا۔

نیویارک شہر کے ایک صحافتی ادارے 'پرو پبلِکا' اور ریاست واشنگٹن سے شائع ہونے والے 'سیاٹل ٹائمز' کے صحافیوں کو مشترکہ طور پر 'نیشنل رپورٹنگ' کی کیٹیگری کے ایوارڈ کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی رپورٹنگ کا پُلٹزر 'نیویارک ٹائمز' کے اسٹاف کے نام رہا ہے جنہوں نے روس کے صدر ولادی میر پوٹن سے متعلق خبروں پر کام کیا تھا۔

اس کے علاوہ تنقید کے شعبے میں 'لاس اینجلس ٹائمز' کے کرسٹوفر نائٹ کو ایوارڈ دیا گیا ہے اور بہترین اداریے کی کیٹیگری میں امریکی ریاست ٹیکساس کے 'دی پیلاسٹائن ہیرلڈ پریس' نامی جریدے کے صحافی جیفری گیرٹ کو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے لیے کام کرنے والے فوٹو جرنلسٹس کو بھی ہانگ کانگ میں ہونے والے احتجاج کی کوریج پر بریکنگ نیوز فوٹوگرافی کی کیٹیگری میں پُلٹزر ایوارڈ دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے وابستہ تین کشمیری صحافیوں چنی آنند، مختار خان اور ڈار یاسین کو کشمیر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی صورتِ حال دکھانے پر فیچر فوٹو گرافی کے شعبے میں پُلٹزر پرائز سے نوازا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG