رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا میں غیر متنازع رہنے کے لیے ملکہ نے 'اچھی پی آر' کا استعمال کیا

ملکۂ برطانیہ 1961 میں دورۂ کراچی کے موقع پر صدر ایوب خان کے ہمراہ ۔ (فائل فوٹو)
ملکۂ برطانیہ 1961 میں دورۂ کراچی کے موقع پر صدر ایوب خان کے ہمراہ ۔ (فائل فوٹو)

جب ملکہ الزبتھ دوم نے 1952 میں تخت سنبھالا تو تاجِ برطانیہ سے ایک 'ہیرا' ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں پانچ برس قبل ہی الگ ہوا تھا۔ وہ ایسے وقت میں ملکہ بنیں جب برِصغیر تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی خون ریزی کے اثرات سے باہر نہیں نکل پایا تھا۔

ملکہ برطانیہ تقسیمِ ہند کے بعد بھارت اور پاکستان کے دوروں پر آئیں اور برِ صغیر پر برطانوی راج کے دوران تلخ یادوں کے باوجود ملکہ کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا ۔

ملکہ کے جنوبی ایشیا کے دوروں کے عینی شاہدین کا کہناہے کہ ملکہ نے گرمجوشی اور لوگوں میں گھل مل جانے کے باعث برِ صغیر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور ماضی کی تلخ یادوں کے باوجود وہ آخری وقت تک غیر متنازع رہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر عائشہ جلال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ ''قابلِ ذکر'' ہے کہ ملکہ ''جنوبی ایشیا میں نوآبادیاتی نظام کی مخالف قوم پرستی کی گہری تاریخ کے باوجود متنازع شخصیت نہیں تھیں۔''

وہ اس بات کا سہرا ''اچھی پی آر (عوامی تعلقات)'' کو قرار دیتی ہیں۔

ممتاز مصورہ اور ماہرِ تعلیم سلیمہ ہاشمی یاد کرتی ہیں کہ کس طرح ایک اسکول کی لڑکی کے طور پر لاہور میں ملکہ کے قافلے کو دیکھ کر وہ ہاتھ ہلا رہی تھیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب 1961 میں ملکہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

سلیمہ ہاشمی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ برسوں بعد لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل کے طور پر 1997 میں انہوں نے ملکہ کے دوسرے اور آخری دورۂ پاکستان کے موقعے پر میزبانی کی۔

ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانیہ میں سوگ

برطانیہ کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک تخت نشین رہنے والی ملکہ الزبتھ دوم وفات پا گئی ہیں۔ لندن کے پکاڈلی سرکس پر ان کی قدآدم تصویر کی راہ گیر تصاویر لے رہے ہیں۔ 
1/8 برطانیہ کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک تخت نشین رہنے والی ملکہ الزبتھ دوم وفات پا گئی ہیں۔ لندن کے پکاڈلی سرکس پر ان کی قدآدم تصویر کی راہ گیر تصاویر لے رہے ہیں۔ 
لندن کے بکنگھم پیلس کے گیٹ پر ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کا اعلان آویزاں ہے۔
2/8 لندن کے بکنگھم پیلس کے گیٹ پر ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کا اعلان آویزاں ہے۔
ملکۂ برطانیہ کے انتقال کی خبر کے بعد لندن کے بکنگھم پیلس کے باہر ہجوم  میں شامل ایک خاتوں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رونے لگیں۔ 8 ستمبر 2022 
3/8 ملکۂ برطانیہ کے انتقال کی خبر کے بعد لندن کے بکنگھم پیلس کے باہر ہجوم  میں شامل ایک خاتوں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رونے لگیں۔ 8 ستمبر 2022 
برطانوی وزیراعظم لز ٹرس اپنی رہائیش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر ملکۂ الزبتھ دوم کی وفات پر میڈیا کے سامنے اپنا بیان دے رہی ہیں۔ 8 ستمبر 2022۔ 
4/8 برطانوی وزیراعظم لز ٹرس اپنی رہائیش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر ملکۂ الزبتھ دوم کی وفات پر میڈیا کے سامنے اپنا بیان دے رہی ہیں۔ 8 ستمبر 2022۔ 
ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے اعلان کے بعد بکنگھم پیلس پر برطانوی پرچم یونین جیک سرنگوں ہے۔ 
5/8 ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے اعلان کے بعد بکنگھم پیلس پر برطانوی پرچم یونین جیک سرنگوں ہے۔ 
بکنگھم پیلس کے قریب سے ایک ٹیکسی گزر رہی ہے جس پر ملکہ الزبتھ دوم کی تصویر چسپاں ہے۔ 8 ستمبر 2022۔
6/8 بکنگھم پیلس کے قریب سے ایک ٹیکسی گزر رہی ہے جس پر ملکہ الزبتھ دوم کی تصویر چسپاں ہے۔ 8 ستمبر 2022۔
ناروے کے شہر اوسلو میں قائم  برطانوی سفارت خانے کے باہر لوگ ملکۂ برطانیہ کے لیے تعزیتی پیغامات اور پھول رکھ رہے ہیں۔
7/8 ناروے کے شہر اوسلو میں قائم  برطانوی سفارت خانے کے باہر لوگ ملکۂ برطانیہ کے لیے تعزیتی پیغامات اور پھول رکھ رہے ہیں۔
ملکۂ برطانیہ کی وفات کے سوگ میں واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل کی عمارت پر لگا امریکی پرچم سرنگوں ہے۔
8/8 ملکۂ برطانیہ کی وفات کے سوگ میں واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل کی عمارت پر لگا امریکی پرچم سرنگوں ہے۔
Previous slide
Next slide

انہوں نے کہا کہ وہ ملکہ کی اس صلاحیت سے متاثر ہوئیں کہ وہ بہت آسانی سے لوگوں میں گھل مل جایا کرتی تھیں اور دوسروں کو اپنی موجودگی سے اچھا احساس دلاتی تھیں۔

سلیمہ ہاشمی نے بتایا کہ کسی ایسی شخصیت کے طور پر جسے سلطنت کا تصور وراثت میں ملا، ملکہ برطانیہ نے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کو قابل عمل بنانے کی بہت کوشش کی۔

عائشہ جلال کہتی ہیں کہ امریکہ کے پاور بروکر کے طور پر ابھرنے کے باوجود شاہی خاندان جنوبی ایشیا کے بارے میں متوازن نظریہ رکھنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ جنوبی ایشیا میں اُن کا اثرورسوخ تقسیمِ ہند کے بعد کم ہوا، لیکن انہوں نے جنوبی ایشیائی ملکوں کے ساتھ اچھے روابط رکھے۔

ملکہ نے اپنے 70 سالہ دورِ حکمرانی میں تین مرتبہ بھارت اور دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔

عائشہ جلال کہتی ہیں کہ ملکہ ایک آئیکون تھیں جنہیں دنیا میں کچھ اچھا کرنے یا اچھا کرنے کی کوشش کرنے کے قابل سمجھا جاتا تھا۔

ملکہ کے انتقال پر سلیمہ ہاشمی کہتی ہیں کہ ملکہ جنوبی ایشیا کے لیے برطانوی بادشاہت کا مدہم ہوتا نقش تھیں اور لوگ یہ جاننے کے لیے تجسس میں ہوں گے کہ بادشاہ چارلز اپنے کردار کو آگے کیسا دیکھتے ہیں اور وہ شاہی روایات کو کس طرح آگے بڑھائیں گے۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG