رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: راہول گاندھی کا وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کا عندیہ


راہول گاندھی نے کہا کہ وہ کانگریس کے سپاہی ہیں اور پارٹی قیادت کی جانب سے انہیں جو بھی حکم ملا، اسے بجا لائیں گے۔

بھارت پر کئی دہائیوں تک حکمرانی کرنے والے نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہول گاندھی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ان کی جماعت آئندہ عام انتخابات میں کامیاب ہوئی تو وہ وزارتِ عظمیٰ سنبھال سکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ 43 سالہ راہول نے وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی تجزیہ کار اور سیاسی حلقے انہیں ایک عرصے سے وزارتِ عظمیٖ کے لیے حکمران جماعت 'کانگریس' کا متوقع امیدوار قرار دیتے آرہے ہیں لیکن راہول اس بارے میں کوئی بیان دینے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

منگل کو ایک ہندی اخبار کو دیے جانے والے اپنے انٹرویو میں راہول گاندھی نے کہا کہ وہ کانگریس کے سپاہی ہیں اور پارٹی قیادت کی جانب سے انہیں جو بھی حکم ملا، اسے بجا لائیں گے۔

خیال رہے کہ راہول کی اطالوی نژاد والدہ سونیا گاندھی کانگریس کی سربراہ ہیں جو گزشتہ 10 برسوں سے بھارت پر حکمران ہے۔ لیکن بدعنوانی کے کئی بڑے اسکینڈلوں، خراب معیشت اور مہنگائی جیسے مسائل کے باعث کانگریس کو رواں سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں حزبِ اختلاف کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

کانگریس کی سربراہی میں قائم حکمران اتحاد کے موجودہ وزیرِاعظم من موہن سنگھ تیسری مدت کے لیے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے معذرت کرچکے ہیں اور انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کی صورت میں راہول کو وزارتِ عظمیٰ کا "بہترین امیدوار" قرار دے چکے ہیں۔

راہول گاندھی نے اس عہدے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کانگریس کےجمعے کو ہو نے والے ایک اہم اجلاس سے قبل کیا ہے جس میں امکان ہے کہ پارٹی اپنے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کا انتخاب کرسکتی ہے جو بعد ازاں آئندہ چار ماہ تک جاری رہنے والی انتخابی مہم کی قیادت کرے گا۔

کانگریس کے اسی سطح کے ایک اجلاس میں گزشتہ برس راہول کا پارٹی کا نائب صدر نامزد کیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے بدعنوانی جیسے مسائل پر خود اپنی ہی حکومت پہ تنقید کرکے نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

اپنے انٹرویو میں راہول کا کہنا تھا کہ کانگریس کی روایت رہی ہے کہ وہ اپنے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کا اعلان انتخابات کے بعد ہی کرتی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی نے اس بار ایسا نہ کیا تو وہ اس کے فیصلے کو قبول کریں گے۔

کانگریس کی جانب سے وزیرِاعظم کا امیدوار چنے جانے کی صورت میں دھیمے مزاج کے حامل راہول کو جہاندیدہ، شعلہ بیاں اور متحرک سیاست دان نریندر مودی سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا جو ریاست گجرات کے وزیرِاعلیٰ اور حزبِ اختلاف کی ہندو قوم پرست جماعت 'بھارتیہ جنتا پارٹی' کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔

مودی اپنی انتخابی مہم کا پہلے ہی زور و شور سے آغاز کرچکے ہیں اور اپنے انتخابی جلسوں میں کانگریس حکومت کی 10 سالہ کارکردگی پر کڑی تنقید کرکے عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

مودی کے مقابلے کے لیے کانگریس کے کئی سینئر رہنما اور موجودہ حکومت کے وزرا ملک کے آئندہ وزیرِاعظم کے لیے راہول کو کانگریس کا امیدوار نامزد کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

لیکن کانگریس کے بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ناتجربہ کار راہول کو امیدوار نامزد کرنے کی صورت میں نریندر مودی کی جارحانہ انتخابی مہم کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوجائے گا اور راہول ان کی شعلہ بیانی کا آسان ہدف ثابت ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG