رسائی کے لنکس

logo-print

'ناول اردو میں چھپا تو سمجھ میں آیا'


محمد حنیف (فائل فوٹو)

پاکستان کے ممتاز ناول نگار محمد حنیف کا انعام یافتہ ناول اشاعت کے گیارہ سال بعد پابندی کی زد میں آ گیا ہے۔ اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز کا اردو ترجمہ حال میں ’پھٹتے آموں کا کیس‘ کے عنوان سے چھپا ہے۔

پیر کو کچھ لوگوں نے ناول کے پبلشر کے دفتر پر چھاپہ مارا اور اپنا تعارف آئی ایس آئی کے اہل کاروں کے طور پر کرایا۔ انھوں نے عملے کو ڈرایا دھمکایا اور دفتر میں موجود ناول کی تمام کاپیاں لے گئے۔

محمد حنیف نے اس بات کا انکشاف خود ٹوئٹر پر کیا اور تعجب کا اظہار کیا کہ ناول کی اشاعت کے گیارہ سال بعد ایسا کیوں کیا جارہا ہے۔

روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی کے اہل کاروں نے مکتبہ دانیال کے منیجر کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ وہ ان کتاب فروشوں کی فہرست تیار کرے جہاں یہ کتابیں بھیجی گئی ہیں۔ وہ یہ فہرست لینے کے لیے منگل کو پھر آئیں گے۔

حنیف کے ناول میں سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کے آخری ایام کا ذکر ہے۔ جنرل ضیا الحق اگست 1988 میں بہاول پور کے ایک دورے کے بعد اسلام آباد واپس جاتے ہوئے فوجی طیارے کے حادثے میں کئی اعلیٰ فوجی افسروں اور امریکی سفیر کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔

بعد میں قیاس آرائیاں کی گئیں کہ طیارے میں آموں کی پیٹیاں رکھوائی گئی تھیں اور ان میں بم تھا جو طیارے کے فضا میں بلند ہوتے ہی پھٹ گیا۔ حنیف نے ان قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مزاح پیدا کرتے ہوئے پھٹتے آموں کا کیس تخلیق کیا۔

محمد حنیف ماضی میں لڑاکا طیاروں کے پائلٹ رہ چکے ہیں اور یہ ناول لکھنے میں انھوں نے اپنا تجربہ بھی استعمال کیا۔

انگریزی میں ناول چھپا تو اس کی بہت پذیرائی ہوئی اور کامن ویلتھ بک پرائز سے نوازا گیا۔ اسے مین بکر پرائز کی لونگ لسٹ اور گارڈین فرسٹ بک پرائز کے لیے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا۔ گارڈین، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے اس پر تبصرے شائع کیے۔

صحافی اور شاعر کاشف رضا نے اس کا اردو ترجمہ کیا جو چند ماہ پہلے شائع ہوا۔ محمد حنیف اور کاشف نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے انھیں جنرل ضیا الحق کے بیٹے اعجاز الحق کی طرف سے ہتکِ عزت کا نوٹس ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے والد کے مبارک نام کو خراب کرنے پر ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔ وہ اپنے وکیل کے ذریعے اس کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چھاپے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس پر طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان نے اس کی مذمت کی ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے ٹوئٹ کیا کہ کریک ڈاؤن ثابت کرتا ہے کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے۔ ان لوگوں کو ناول سمجھنے میں گیارہ سال لگ گئے۔

صحافی روحان نے سوال کیا کہ کیا ناول کا اردو ترجمہ بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے؟ نتاشا صدیقی نے کہا کہ بس اردو ترجمہ نہ کریں کسی چیز کا تو سب خوش رہتے ہیں۔ عدم تحفظ کا شکار لوگ! سرویش دھیر نے لکھا، آم اب بھی پھٹ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG