رسائی کے لنکس

کشمیری تنظیم کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف احتجاج

  • روشن مغل

مظفرآباد

مظاہرے میں حزب المجاہدین کےسینکڑوں حامیوں نے شرکت کی اور بھارت مخالف اور عسکریت پسند راہمنا پر پابندی کے خلاف نعرے لگائے۔ مطاہرین جنھوں نے بھارت مخالف اور صلاح الدین کے حق میں نعروں پر مشتمل بینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے نے بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا

امریکی محکمہٴ خارجہ کی طرف سے کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو دہشتگرد قرار دینے کے خلاف منگل کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا اہتمام کشمیری مہاجرین کی تنظیم، ’پاسبان حریت‘ کی طرف سے کیا گیا تھا۔

مظاہرے میں حزب المجاہدین کےسینکڑوں حامیوں نے شرکت کی اور بھارت مخالف اور عسکریت پسند راہمنا پر پابندی کے خلاف نعرے لگائے۔ مطاہرین جنھوں نے بھارت مخالف اور صلاح الدین کے حق میں نعروں پر مشتمل بینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے نے بھارتی پرچم بھی نذرآتش کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ’پاسبان حریت تنظیم‘ کے سربراہ، عزیر احمد غزالی نے کہا کہ کشمیر میں جاری تحریک اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے اقوام متحدہ مقبوضہ علاقوں میں بسنے والوں کو آزادی کے لئے ہر وہ قدم اٹھانے کے اجازت دیتا ہے، جس سے قابض قوتوں کو قبضہ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت برپا کئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم سید صلاح الدین احمد کے خلاف امریکی اقدام کی مزمت کرتے ہیں اور اُنہیں دہشت گرد قرار دینے کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ خطہ کے امن کیلیئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کے چین کو اس فیصلے کے خلاف آگے آنا چاہئیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’کشمیری عسکریت پسندوں نے کبھی بھی کشمیر سے باہر کوئی کارروائی نہیں کی‘‘۔

حزب المجاہدین کے ترجمان، سلیم ہاشمی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’’صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیریوں کی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بقول اُنکے، یہ عوامی تحریک ہے۔ اب ہر بچہ، جوان اور بوڑھا بھارت کے خلاف کھڑا ہے‘‘۔

سلیم ہاشمی نے کہا کہ ’’امریکی محکمہٴ خارجہ کے اس اقدام سے کشمیر میں امریکہ کے خلاف عوامی جذبات میں اضافہ ہوگا‘‘۔

واضع رہے کہ سید صلاح الدین بھارتی کشمیر میں فوج کے خلاف کاروائیوں میں ملوث ایک درجن سے زائد عسکری تنظیموں کے اتحاد، ’متحدہ جہاد کونسل‘ کے بھی کئی برسوں سے چئرمین چلے آرہے ہیں۔

اس اتحاد کے ترجمان، صداقت حیسن نے اپنے ایک بیان میں امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ کھلا مذاق اور افسوسناک قرار دیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں حزب المجاہدین کے سربراہ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے امریکی محکمہ خارجہ کے اقدام کو ’’ناانصافی پر مبنی‘‘ قرار دیا گیا۔ منگل کو سید صلاح الدین کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر ردعمل میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’’کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔

پاکستانی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ بھارت کی زبان بول رہا ہے‘‘۔

پاکستانی کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر خان کی طرف سے صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG